حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 101
پرسینی ان کی سیاست ناکام ہو کر رہ جاتی ہے۔آج کل کی دنیا میں اصل لڑائی سیاست کی لڑائی ہے۔سیاست میں مقابلہ ہوش سے ہوتا ہے جوش سے نہیں ہوا کرتا۔اعلیٰ درجہ کا سیاستدان ہوش سے کام لے کر اپنے لوگوں کو دشمن سے محفوظ بنانے کی کوشش کرتا ہے۔اس لئے مسلمان ملکوں کے عوام اور ان کے رہنماؤں کو ( اگر وہ کامیاب ہونا چاہتے ہیں عقل سے کام لینا ہو گا اور عقل کی سیاست کرنا ہوگی محض جوش و خروش کے اظہار سے کچھ نہیں ہو گا یہ لوگ جب اپنے منتقمانہ اور غصہ سے بھرے ہوئے خیالات کو اسلام سے منسوب کر کے جوش و خروش کا اظہار کرتے ہیں اور بڑھ بڑھ کر باتیں بناتے ہیں تو اس کا سب سے زیادہ صدمہ اسلام کو پہنچتا ہے اور پھر اس کا سب سے زیادہ صدمہ جماعت احمدیہ کو پہنچا ہے جو دنیا میں حقیقی دین حق - ناقل) کی علمبردار ہے ہم نے تو اپنے آپ کو دنیا بھر میں اسلام کے متعلق پھیلی ہوئی غلط فہمیاں دور کرنے کے لئے وقف کر رکھا ہے۔جب خود مسلمانوں کی غلط روش کی وجسے غلط فہمیاں پیدا ہو کر ہمارے راستے میں نئی روکیں پیدا کر دیتی ہیں تو ہمیں تمام دنیا کو بتانا پڑتا ہے اور بار بار بتانا پڑتا ہے کہ وہ اسلام نہیں ہے جس کی آوازیں تم سعودی عرب یا ایران با لیبیا سے سن رہے ہو بلکہ اسلام تو وہ ہے جس کی آوازیں محمد صلے صلی الہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے آج سے چودہ سو برس پہلے مکہ اور مدینہ سے بلند کیں اور جن کا ذکر قرآن کریم میں ملتا ہے۔اسلامی اقدار کا اگر مطالعہ کرنا ہے تو قرآن کا مطالعہ کرو اور محمدمصطفی صل اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے کردار کا مطالعہ کرو۔یہی وجہ ہے کہ میں بار بار احمدیوں کو متوجہ کرتا ہوں کہ وہ اپنی قومیتوں کو اپنے مذہب کے ساتھ مدغم نہ کریں۔اگر وہ پاکستانی ہیں تو اپنی پاکستانیت کو پاکستان کی حدود میں محدود رکھیں۔اور جب دوکر ملکوں میں جائیں اور وہاں این جی تامل کا پیغام دیں تو وہ پیغام آفاقی ہونا چاہیئے اس کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیئے۔جیسا کہ اسلام کا لیبیا سے تعلق ہے نہ ایران سے تعلق ہے، نہ سعودی عرب سے تعلق ہے۔یعنی اُن قوموں سے اسلام کا کوئی تعلق نہیں ہو آج کل اِن