حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 100
بار ہا دنیا کو عصبیت کی وجہ سے خطرات پیش آتے رہے۔مسلمان ملکوں اور ان کے رہنماؤں کا طرز عمل جہاں تک مسلمان ملکوں کا تعلق ہے ان سے نہیں دہر اشکوہ ہے، وہ بھی تیسری دنیا کی طرح جذبات میں بہہ کر نہ صرف اپنی عصبیت کے خیالات کو اپنی زبان سے ظاہر کرتے ہیں بلکہ ان جذبات اور خیالات کو اسلام کے نام پر دُنیا کے سامنے بڑی شدت کے ساتھ ظاہر کرتے ہیں جو ایک بہت ہی بھیانک جرم ہے کیونکہ جیسا کہ میں نے ثابت کیا ہے قرآن کریم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور اُس دین کے متعلق جو آپ کو عطا کیا گیا، واشگاف الفاظ میں یہ ظاہر فرما دیا تھا الا شَرْقِيَّةٍ وَلَا غَرْبِيَّةِ) یعنی محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نہ مشرقی رجحانات رکھتے ہیں اور نہ مغربی رحجانات رکھتے ہیں بلکہ آپ کے تو الہی رحجانات ہیں۔آپ دنیا کے بندے نہیں بلکہ خدا کے بندے بن چکے ہیں۔خدائی صفات نے آپ کی ذات میں جلوہ گر ہو کر آپ کو انصاف کا وہ اعلیٰ مقام عطا کر دیا ہے کہ جو کبھی نہ مشرقی عصبیت کی بات کرے گا اور نہ مغربی عصبیت کی بات کرے گا۔اسی طرح آپ کے دین کو بھی ایسا وسطی دین قرار دیا گیا جو نہ دائیں طرف جھکتا ہے ، نہ بائیں طرف جھکتا ہے بلکہ وسط کی ، عدل کی راہ پر جاری وساری ہے۔اس کے ہوتے ہوئے اگر مسلمان ممالک اور ان کے راہنمایا اُن کے مذہبی علماء ایسے بیانات جاری کریں جن کے نتیجہ میں نہ صرف یہ کہ عصبیت کے پکنے والے پھوڑے دنیا پر ظاہر ہوں بلکہ وہ ایسی زبان میں ان کو ظاہر کریں کہ جس کی وجی سے اس کی تمام تر ذمہ داری اسلام پر عائد ہوتی ہو۔مثلا السلام کے نام پر جہاد کا اعلان کرتے ہوئے وہ اپنے دلوں کے سیاسی غبار نکالیں تو وہ دہرے جرم کے مرتکب ہوتے ہیں۔ایک طرف تو ان کا ملک بدنام ہوتا ہے۔دوسری طرف اس کی زد خود اسلام پر پڑتی ہے۔جہاں تک ملک کے بدنام ہونے کا تعلق ہے وہ اس سے ہی ظاہر ہے کہ جذبات اور جوش