ہستی باری تعالیٰ — Page 259
۲۵۹ پس چونکہ خدا تعالیٰ خود بندہ کے لقاء کو چاہتا ہے اس لئے اس سے ناامید نہیں ہونا چاہئے۔پہلی خطاؤں کی معافی لقاء کے لئے یہ ضروری ہے کہ انسان پہلے پچھلی صفائی کرے۔اس کے لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑا آسان طریقہ بتایا ہے۔ایک شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آکر کہا حضور مجھ سے خطا ہوگئی ہے میں کیا کروں ؟ آپ نے فرمایا تمہاری ماں زندہ ہے۔اس نے کہا نہیں آپ نے فرمایا خالہ؟ کہا نہیں فرما یا کوئی اور رشتہ دار جو ہے اس کی خدمت کر دے۔اس سے معلوم ہوا کہ ان رشتوں کا ادب اور خدمت کرنا خطاؤں کو معاف کراتا ہے۔تین باتیں اس سے پہلے سوچے ایک یہ کہ نیت کرے اور اخلاص اس کے اندر ہو۔دوسرے یہ کہ سستی اور غفلت ترک کرے۔تیسرے یہ کہ بات کو سوچنے کی عادت ڈالے اگر ان میں سے کوئی ایک بھی نہ ہو تو کامیاب نہ ہوگا۔اگر کسی کی نیت نیک نہ ہو تو کوئی اسے نو کر نہیں رکھتا۔اگر کوئی سست ہو تو بھی اسے کوئی نہیں رکھتا اور اگر بات کچھ کہی جائے اور سمجھے کچھ اور تو بھی نہیں رکھتا۔پس تو بہ کے ساتھ یہ تینوں باتیں بھی ہونی ضروری ہیں اور جو لقائے الہی کے خواہشمند ہوں انہیں فورا یہ باتیں پیدا کرنی چاہئیں۔خدا تک پہنچنے کا رستہ اس کے بعد میں لقاء کے متعلق مونا طریق بتاتا ہوں اور تفصیل کو چھوڑ دیتا ہوں