ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 258 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 258

۲۵۸ معمولی گرم ہو گا اور زیادہ گرم کیا جائے گا تو جلانے کا کام کرے گا مگر اس کی شکل آگ کی سی نہیں ہوگی اس سے ترقی کریگا تو آگ کی طرح چمک پیدا ہو جائے گی۔اسی طرح بندہ کا لقاء ہوتا ہے بندہ خدا میں محو ہوتے ہوتے اس حد کو پہنچ جاتا ہے کہ لوگ سمجھنے لگ جاتے ہیں کہ یہ بندہ نہیں خدا ہے چنانچہ بعض بندوں کو اسی وجہ سے خدا بنالیا گیا۔رؤیت اور لقاء میں فرق اب میں بتاتا ہوں کہ رؤیت کیا ہے اور لقاء کیا ؟ اور ان میں کیا فرق ہے؟ اس لئے یہ یا درکھنا چاہئے کہ رؤیت تو عارضی ہوتی ہے یعنی اس کے یہ معنی ہیں کہ خدا کا جلوہ دیکھ لیا اور لقاء کے معنے یہ ہیں کہ خدامل گیا اس کو پالیا یہ مستقل درجہ کا نام ہے اور اصل لقاء ہی ہے۔رؤیت کے بعد لقاء کا مقام ہے اور جسے یہ مقام حاصل ہو گیا اسے ایک قسم کی رؤیت ہمیشہ ہی حاصل ہوتی رہتی ہے۔لقاء الہی سے کبھی نا امید نہیں ہونا چاہئے اب میں لقاء کا کچھ ذکر کرتا ہوں۔مگر اس سے قبل یہ بتا دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ خدا سے ملنے میں مؤمن کو کبھی نا اُمید نہ ہونا چاہئے اس لئے کہ خدا تعالیٰ خود چاہتا ہے کہ بندہ اس سے ملے اگر یہ خواہش صرف ہماری طرف سے ہوتی تو اور بات تھی مگر اب تو یہ صورت ہے جس طرح کسی شاعر نے کہا ہے ملنے کا تب مزا ہے کہ دونوں ہوں بے قرار دونوں طرف ہو آگ برابر لگی ہوئی!