ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 260 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 260

کیونکہ تفصیل کی گنجائش نہیں۔یا درکھو کہ لقاء کا مطلب خدا تک پہنچنا ہے اور ” تک“ کا لفظ اسی وقت بولا جاتا ہے جبکہ درمیان راستہ ہو جسے ہم نے طے کرنا ہو پس ہمیں لقاء کے لئے راستہ تلاش کرنا پڑے گا جس پر چل کر ہم اس مقصد کو حاصل کر سکیں۔چونکہ اس مقصد کو صرف قرآن کریم ہی پورا کر سکتا ہے اس لئے ہم اسی کی طرف رجوع کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اس مضمون پر اس میں مکمل روشنی ڈالی گئی ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔الْحَمْدُ لِلهِ رَبّ العلمينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ ) اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ (الفاتحه : ۲ تا ۶ ) ان آیات سے صاف ظاہر ہے کہ مؤمن اللہ تعالیٰ سے ایک راستہ کے دکھانے کی درخواست کرتا ہے پھر دوسری جگہ آتا ہے۔صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِيمَ (الاعراف: ۱۷) وہ راستہ مجھے دکھا جو تیری طرف سیدھا چلا آتا ہے اس سے معلوم ہوا کہ سورۃ فاتحہ میں جس راستہ کے دکھانے کی دُعا سکھائی گئی ہے وہ وہی راستہ ہے جو سیدھا خدا تک پہنچتا ہے۔اب یہ سوال ہے کہ وہ کون سا راستہ ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ تک پہنچنے کے بہت سے راستے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے الَّذِينَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (العنكبوت : ۷۰ ) جولوگ ہماری ملاقات کے لئے کوشش کرتے ہیں ہم انہیں یقیناً اپنے تک پہنچنے کے راستے بتا دیتے ہیں۔مگر ان سب راستوں سے ایک مکمل اور مجمل راستہ ہے جسے ہر شخص آسانی سے سمجھ سکتا ہے اور وہ راستہ وہی ہے جو سورۃ فاتحہ میں بتایا گیا ہے۔عقل کہتی ہے جب خدا تعالیٰ نے سورۃ فاتحہ میں راستہ کے دکھانے کی دُعا سکھائی ہے تو پہلے راستہ بھی بتایا ہوگا تبھی اس کے بعد یہ دعا سکھائی کہ اب اس راستہ پر مجھے چلا۔جب ہم سورۃ فاتحہ پر غور کرتے ہیں تو ہمیں صاف طور پر