ہستی باری تعالیٰ — Page 209
۲۰۹ مانتے ہو تمہارے نزدیک خدا کے حکم سے ایک ہی وقت ایک کے ہاں بیٹا پیدا ہو رہا ہے اور اسی لمحہ میں دوسرے کے ہاں موت واقع ہورہی ہے۔ادھر نبی پر وہ برکتیں نازل کرتا ہے اور دوسری طرف اس وقت کافروں پر لعنت ڈال رہا ہوتا ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ محدود وجود کے اعمال محدود ہوتے ہیں انسان ایک وقت میں دو باتوں پر غور نہیں کر سکتا لیکن خدا تعالیٰ کے متعلق یہ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ وہ غیر محدود طاقتیں رکھتا ہے۔وہ جس طرح ایک ہی وقت میں ساری دنیا کے کاموں کو معلوم کر لیتا ہے اسی طرح ایک ہی وقت میں اس کی صفت رحم اور صفت شدید العقاب کام کر رہی ہوتی ہیں۔انسان کی طاقتوں پر خدا کی قدرتوں کا قیاس نہیں کیا جاسکتا کیونکہ وہ لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَئ ہے۔تمام صفات الہیہ کا ظہور کس طرح ہوتا ہے؟ یہ سوال بھی قابل غور ہے کہ خدا تعالیٰ کی مختلف صفات ایک وقت میں کس طرح جاری ہوتی ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی ایک صفت ایسی بھی ہے جو بعض اصول کے مطابق بعض صفات کو جاری کرتی ہے اور بعض کو بند کرتی ہے۔یہ صفت بعض آیات قرآن کریم سے بھی مستنبط ہوتی ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعض الہامات سے بھی معلوم ہوتی ہے اور اس کی مثال بالکل ایسی ہے جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا تعالیٰ کے متعلق شافی کا لفظ استعمال فرمایا ہے کہ خدا تعالیٰ شافی ہے۔جیسے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا قول قرآن