ہستی باری تعالیٰ — Page 208
۲۰۸ کیا خدا کی صفات ایک دوسری کے متضاد ہوسکتی ہیں؟ پھر یہ سوال ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی صفات ایک دوسری کے متضاد ہیں تو ان کا عمل کس طرح ہوتا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ایک وجود میں دو باتوں کا پایا جانا تضاد نہیں ہوتا۔تضاد تو یہ ہوتا ہے کہ اگر ایک چیز آجائے تو دوسری نہ ہو سکے اور یہ بات خدا تعالیٰ کی صفات کے متعلق نہیں کہی جاسکتی۔کہا جاتا ہے کہ اگر خدا رحیم ہے تو پھر شدید العقاب کیونکر ہو سکتا ہے؟ اگر رحیم ہے تو وہ شدید العقاب نہیں ہو سکتا اور اگر شدید العقاب ہے تو رحیم نہیں ہوسکتا۔ہم کہتے ہیں کہ اس اعتراض کے اُٹھانے والے اپنے متعلق ہی غور کریں۔اگر کوئی شخص کہے کہ فلاں شخص رحم دل ہے لیکن دوسرا شخص جواب دے کہ نہیں وہ رحم دل نہیں کل میں نے اسے اپنے لڑکے کو مارتے دیکھا تھا تو کیا یہ بات صحیح تسلیم کی جائے گی ؟ ہرگز نہیں کیونکہ وہ رحم کے موقع پر خم کرتا ہے اور سزا کی ضرورت کے وقت سزا دیتا ہے۔اسی طرح خدا تعالے کے متعلق یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اگر وہ شدید العقاب ہے تو رحیم نہیں ہوسکتا اور اگر رحیم ہے تو شدید العقاب نہیں ہوسکتا۔کیونکہ وہ رحم کے موقع پر رحم کرتا ہے اور سزا کے موقع پر سزا دیتا ہے اور سزا کے موقع پر یعنی جہاں سزا سے اس شخص کی اصلاح مدنظر ہو جسے سزا دی گئی ہے۔سزا کا دینا ہر گز رحم کے خلاف نہیں ہوتا بلکہ رحم ہی کی ایک شاخ سمجھا جاتا ہے۔اس جگہ ایک اور اعتراض کیا جا سکتا ہے کہ انسان میں رحم اور غضب الگ الگ موقعوں پر ظاہر ہوتے ہیں لیکن خدا میں تو تم ایک ہی وقت میں ساری باتیں