ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 207 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 207

۲۰۷ فائدہ کے نظر نہیں آتے جیسے نماز ، روزہ ، حج اور زکوۃ کے احکام ہیں مگر در حقیقت ان میں بھی انسان کا ہی فائدہ مد نظر ہے۔جیسا کہ نماز کے متعلق آتا ہے إِنَّ الصَّلوةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ - (العنکبوت: ۴۶) که نماز برائیوں اور بدیوں سے روکتی ہے۔سو اگر سوچا جائے تو خدا تعالیٰ نے امتحان اس طرح کا لیا ہے کہ اپنے دروازہ پر روغن مل دینا، چھت پر مٹی ڈال دینا، اپنے کپڑے دھونا، کھانا دیکھ کر کھانا تا کہ اس میں مٹی وغیرہ نہ ہو، سردی کے وقت آگ جلانا تا کہ تمہاری صحت خراب نہ ہو اور پھر پوچھے کہ کیا تم نے یہ کام کر لئے ہیں؟ اور جنہوں نے کئے ہوں انہیں جنت میں داخل کر دے اس سے زیادہ آسان اور کیا امتحان ہو سکتا ہے؟ اس سے آسان تو پھر یہی ہو سکتا ہے کہ کہہ دیا جائے جو مرضی ہو کر و تمہیں جنت میں داخل کر دیا جائے گا۔کیا خدا کی بعض صفات بعض سے افضل ہیں؟ صفات الہیہ کے متعلق یہ بھی ایک سوال ہو سکتا ہے کہ کیا خدا کی بعض صفات بعض سے افضل ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ افضل نہیں ہوتیں بلکہ ہر ایک کے الگ الگ دائرے ہوتے ہیں اور وہ ایک انتظام کے ماتحت ہوتی ہیں۔ہاں کبھی یہ کہہ سکتے ہیں کہ بعض بعض سے وسیع ہوتی ہیں۔یعنی بعض کا ظہور زیادہ وسیع ہوتا ہے بعض کی نسبت جیسے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے رحمتِی وَسِعَتْ كُل تھی کہ میری رحمت ہر ایک چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔یعنی مخلوق پر صفات غضبیہ کی نسبت صفات رحمت کا ظہور زیادہ ہوتا ہے۔پس ہم صفات کے لئے لفظ وسعت کا استعمال کرتے ہیں فضیلت کا نہیں کیونکہ ایک صفت کو دوسری سے افضل کہنا بے ادبی ہے۔الاعراف: ۱۵۷