ہستی باری تعالیٰ — Page 157
۱۵۷ رکھتی ہیں جیسے رحیم۔رحمن وغیرہ۔تیسری جو دفع شر سے تعلق رکھتی ہیں جیسے حفیظ، مہیمن وغیرہ۔چوتھی وہ جو نافرمانی پر سزا دینے کے متعلق ہیں۔دوسری قسم کی صفات وہ ہیں جن سے خدا تعالیٰ اپنا منزه عن العيوب ہونا بیان کرتا ہے جیسے یہ کہ وہ نہ کسی کا بیٹا ہے، نہ باپ نہ کھاتا ہے، نہ پیتا ہے، نہ سوتا ہے۔ان صفات میں زیادہ تر ان خیالات کا دفع مد نظر ہوتا ہے جو لوگوں میں خدا تعالیٰ کے متعلق رائج ہوتے ہیں اور غلط ہوتے ہیں یا جن کو انسان اپنے پر قیاس کر کے خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کر سکتا ہے۔تیسری قسم کی صفات وہ ہیں جن میں خدا تعالیٰ اپنے ذاتی حسن کو بیان کرتا ہے۔چوتھی قسم کی صفات وہ ہیں جن میں خدا تعالیٰ اپنے وراء الورٹی ہونے کو بیان کرتا ہے۔جیسے صفت احد ہے کہ وہ اس کے کامل طور پر ایک ہونے پر دلالت کرتی ہے کسی دوسرے وجود کے خیال کو بھی قریب پھٹکنے نہیں دیتی۔کیا خدا کی صفات انسانی صفات جیسی ہیں؟ اس جگہ ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی جو صفات بیان کی گئی ہیں ان میں سے بہت سی ہیں جو انسان میں بھی پائی جاتی ہیں۔جیسے مثلاً کہتے ہیں کہ خدا محبت کرتا ہے اسی طرح بندہ بھی محبت کرتا ہے تو کیا اس کی محبت ہماری محبت جیسی ہی ہوتی ہے یا جب کہتے ہیں کہ وہ سنتا ہے تو کیا ہماری طرح ہی سنتا ہے یا جب کہتے ہیں کہ وہ بولتا ہے تو کیا ہماری طرح بولتا ہے؟ اس کے متعلق یاد رکھنا چاہئے کہ جو صفتیں ہم خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کرتے