ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 129 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 129

۱۲۹ ہیں۔ایک تو یہ ہے کہ صورت کے معنی عربی میں وصف اور صفت کے بھی آتے ہیں۔اس لئے اِنَّ اللهَ خَلَقَ آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ کے یہ معنی ہوئے کہ خدا نے آدم کو اپنی صفات پر پیدا کیا ہے۔جیسے فرما یا عَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا (البقرة : ٣٢) یعنی خدا نے اپنی وہ ساری صفات جو بندوں سے تعلق رکھتی ہیں آدم کو سکھا ئیں۔یعنی انسان کو خدا نے ایسا دماغ دیا کہ جو اس کی صفات کو جلوہ گر کر سکے۔وہ شخص چونکہ اپنے غلام کے منہ پر مار رہا تھا اور ممکن تھا کہ اس کے دماغ کو صدمہ پہنچے اس لئے رسول کریم نے اسے فرمایا کہ اس طرح نہ مارو اور جس سے وہ غرض جس کے لئے انسان بنایا گیا ہے وہ باطل ہو جائے گی۔چنانچہ دوسری حدیثوں سے بھی پتہ لگتا ہے کہ رسول کریم نے فرما یا منہ پر نہیں مارنا چاہئے۔وجہ یہ کہ دماغ مرکز ہے ساری صفات کا اور اس کو صدمہ پہنچنے سے صفات کا ظہور رک جاتا ہے۔اس لئے رسول کریم نے فرمایا خدا کی صفات کا ادب کرو۔خدا نے انسان کا دماغ اس لئے پیدا کیا ہے کہ اس کی صفات اخذ کرے۔مگر تم منہ پر مارتے ہو جس سے خطرہ ہوتا ہے کہ دماغ کو جو اس کے بالکل قریب ہے صدمہ پہنچ جائے اور انسان کی عقل کو نقصان پہنچ جائے جس سے وہ اپنی پیدائش کی غرض کو پورا کرنے سے ہی محروم ہو جائے۔اس حدیث کے یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں علی صُورَتِهِ سے مراد عَلَى صُورَةِ الْإِنْسَانِ ہو۔یعنی آدم کو اس کے مناسب حال شکل پر پیدا کیا۔اس صورت میں اس حدیث کا یہ مطلب ہوگا کہ چونکہ وہ زور سے مار رہا تھا اس لئے ممکن تھا کہ غلام کا کوئی عضو ٹوٹ جاتا۔اس پر رسول کریم نے فرمایا خدا نے تو اسکو اس کے مناسب حال شکل دی تھی کیا مسند احمد بن حنبل جلد ۲ صفحه ۲۲۴