ہستی باری تعالیٰ — Page 230
۲۳۰ ٹھیک نہیں تو ان کو خوا میں کس طرح آئیں اور اگر خدا تعالیٰ کی رؤیت ناممکن ہے تو پھر علم تعبیر میں اسے بیان کیوں کیا گیا ہے؟ رؤیت کے مدارج غرض جو آیات یا روایات رؤیت الہی کے رد میں پیش کی جاتی ہیں ان کا وہ مطلب نہیں جو منکرین رؤیت سمجھتے ہیں اور دوسری آیات اور روایات ایسی ملتی ہیں جو رؤیت الہی کا امکان ثابت کرتی ہیں بلکہ خود ان آیات سے بھی جو رڈ میں پیش کی جاتی ہیں امکان بلکہ حدوث رؤیت ثابت ہوتا ہے۔اب میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ رؤیت الہی کے کئی درجے ہیں حتی کہ ایک ایسی ادنیٰ درجہ کی رؤیت بھی ہے کہ جو بظاہر مؤمن لیکن یہ باطن منافق ہوتا ہے اسے بھی ہو جاتی ہے اور اعلیٰ درجوں کے لحاظ سے اس کے اس قدر درجے ہیں جو کبھی ختم ہی نہیں ہوتے۔مختلف رؤیت الہی ذات کی رؤیت تو ایک ہی ہوتی ہے اور ایک ہی ہونی چاہئے لیکن صفات کی رؤیت مختلف ہوتی ہے۔دیکھو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو حضرت خلیفہ اول نے بھی پہچانا اور حضرت مولوی عبد الکریم صاحب نے بھی مگر حضرت خلیفہ اول کی رؤیت اور تھی اور مولوی عبد الکریم صاحب کی اور۔پس خدا تعالیٰ کی رؤیت چونکہ صفاتی ہے اس لئے لازما اس کے بہت سے مدارج ہونے چاہئیں کیونکہ جب بھی صفات باری جلوہ گر ہوں گی اس شخص کے درجہ کے مطابق جلوہ گر ہوں گی جودیکھنے والا ہو گا جیسا جیسا کوئی شخص ہو گا ویسی ویسی