ہستی باری تعالیٰ — Page 229
۲۲۹ جائے مگر ہم کہتے ہیں کہ اس رؤیت کے معنے وسیع نہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت والی رؤیت بیان کرتے ہوئے اس کی نفی کی ہے کہ جب تک کسی پر موت نہ آ جائے وہ اس قسم کی رؤیت نہیں پاسکتا اور یہ ہم بھی مانتے ہیں۔اسی طرح حدیث میں آتا ہے هَلْ رَبِّيْتَ رَبِّكَ فَقَالَ نُوْرٌ أَنِّی آرۂ یعنی لوگوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ وہ تو نور ہے میں اسے کس طرح دیکھ سکتا ہوں ہم اس حدیث سے بھی منکرین رؤیت استدلال کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کا دیکھنا ناممکن ہے۔مگر یہ حدیث سائل کے سوال کے جواب میں ہے۔ممکن ہے سائل نے خدا کی ذات کے متعلق پوچھا ہو کہ کیا آپ نے اس ذات کو دیکھا ہے یا نہیں؟ اور اس کا جواب دیا گیا کہ میں اسے کیا دیکھ سکتا ہوں۔رؤیت الہی کے متعلق احادیث اب میں رؤیت کے دلائل بیان کرتا ہوں۔قیامت میں رؤیت کے متعلق بہت سی احادیث میں ذکر آتا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ انسان کے لئے رویت کا امکان ثابت ہے۔حدیث میں آتا ہے خَيْرُ الرُّؤْيَا أَن تَرَى رَبَّهُ فِي الْمَنَامِ أَوْ يَرَى أَبَوَيْهِ کہ اچھی خواب وہ ہے کہ انسان خدا کو یا ماں باپ کو خواب میں دیکھے جو نیک ہوں۔اس سے معلوم ہوا کہ خدا کو انسان دیکھ تو سکتے ہیں اور جب اور لوگ دیکھ سکتے ہیں تو موسیٰ علیہ السلام اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کیوں نہیں دیکھ سکتے۔اسی طرح معبرین لکھتے ہیں کہ اگر کوئی خواب میں خدا کو دیکھے تو جنت میں جائے گا۔خوابوں کی تعبیریں صلحاء کی خوابوں پر رکھی گئی ہیں۔اگر یہ مسلم کتاب الايمان باب في قوله عليه السلام نُوْرٌ آئی آردُ وَفِي قَوْلِهِ رَأَيتُ نُورًا