ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 231 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 231

اس کو رویت حاصل ہوگی کیونکہ ہر چیز اپنی جنس کو دیکھ سکتی ہے غیر کو نہیں دیکھ سکتی۔ہم چونکہ مادی ہیں اس لئے مادہ کو دیکھ سکتے ہیں جو ہر کو نہیں دیکھ سکتے پھر بعض ایسی چیزیں ہیں جو ہم سے زیادہ اعلیٰ مادہ سے بنی ہیں یا جن کے متعلق ہم نہیں کہہ سکتے کہ وہ مادی ہیں یا اور کوئی چیز ہیں بہر حال وہ ایسی چیزیں ہیں جو ہماری جنس کی نہیں ہیں ان کو ہم نہیں دیکھ سکتے تو جب تک ایک چیز کو دوسری سے جنسی مناسبت نہ ہو نہیں دیکھ سکتی۔رؤیت الہی کے لئے بھی مناسبت ہوئی ضروری ہے اور اس مناسبت میں اختلاف بھی ضروری ہے کسی کو زیادہ ہوگی کسی کو کم اس لئے ہر ایک کو اس مناسبت کے مطابق رؤیت ہوگی جو اس میں پائی جائے گی اور خدا تعالیٰ اس مناسبت کے لحاظ سے تنزل کر کے اسے رؤیت کرائے گا۔اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کوئی شخص ایک اونچی جگہ کھڑا ہو اور مختلف قدوں والے لوگوں نے جو اس کے نیچے کھڑے ہوں اس سے مصافحہ کرنا ہو تو اس وقت اس شخص کو بڑے قد والوں کے لئے کم جھکنا پڑے گا اور چھوٹے قد والوں کے لئے زیادہ۔اسی طرح رؤیت کے معاملہ میں جن لوگوں میں صفات الہیہ سے زیادہ مناسبت ہوگی ان کے لئے خدا تعالیٰ کو کم نیچے آنا پڑے گا اور جن میں کم ہوگی ان کے لئے زیادہ اور جتنا خدا زیادہ نیچے آئے گا اتنی ہی رؤیت ادنی ہوگی اور جتنا انسان اعلیٰ ہوگا اتنی ہی رؤیت اعلی ہوگی۔رؤیت الہی کے مدارج کاعلو یہ رؤیت الہی کے مدارج ایسے اعلیٰ ہیں کہ انسان اس دُنیا میں انہیں طے نہیں کر سکتا بلکہ دائمی زندگی میں بھی طے نہیں کر سکتا۔آریہ اعتراض کرتے ہیں کہ جب انسان کے اعمال دائمی نہیں تو دائمی نجات کیونکر ہو سکتی ہے؟ ہم کہتے ہیں دائمی نجات خدا تعالیٰ کی