ہستی باری تعالیٰ — Page 115
۱۱۵ ہے کہ اس نام کے بھی معنی ہیں۔چنانچہ کہا جاتا ہے کہ یہووا یہوی سے نکلا ہے۔جس کے معنی ہیں گرنے والا اور اس کا یہ مطلب ہے کہ وہ ہستی جو انسان پر نازل ہو۔مگر اس سے صرف خدا تعالیٰ کے متکلم یا نزول کی صفت معلوم ہوتی ہے اس لئے یہ اسم ذات نہ ہوا۔بلکہ اسم صفت ہوا۔میرے نزدیک یہووا یا ہو ہے یعنی ”اے وہ جو ہے گویا نام کا پتہ نہیں۔اور جس طرح کوئی ایسا شخص دور فاصلہ پر جارہا ہو جس کا نام معلوم نہ ہومگر اسے مخاطب کرنے کی ضرورت ہو تو کہا جاتا ہے، ارے ٹھہر جاؤ۔اسی طرح یہ نام ارے کا قائم مقام ہے اور اس میں صرف اس امر پر دلالت ہے کہ وہ واجب الوجود ہے اس سے زیادہ اور کسی صفت پر اس سے دلالت نہیں ہوتی۔اسلام سے پہلے کسی کو خدا کا اسم ذات نہیں بتایا گیا اصل بات یہ ہے کہ اسلام سے پہلے کسی قوم کو خدا کا اہم ذات بنا یا ہی نہیں گیا اور اس میں ایک بہت بڑی حکمت ہے اور وہ یہ کہ خدا تعالیٰ کا اسم ذات اس کی ساری صفات کو اپنے اندر رکھتا ہے اور ساری صفات محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے امت محمدیہ پر ہی ظاہر ہوئیں اس لئے اور کسی پر خدا تعالیٰ نے اپنا ذاتی نام ظاہر نہ کیا۔یہودیوں میں خدا کے نام کی عزت یہودی یہووا نام کا بڑا ادب کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیشہ اور ہر ایک کو یہ نام نہیں لینا چاہئے کیونکہ اس طرح اس کی بے ادبی ہوتی ہے اس وجہ سے صرف ان کے علماء ہی یہ نام لیتے تھے اور اس کا صحیح تلفظ انہی کو آتا تھا اور ان کا دعوی تھا کہ کوئی دوسرا یہ نام لے تو