ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 116 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 116

117 اس پر خدا کا غضب نازل ہوتا ہے اور جو شخص بغیر با قاعدہ مولوی ہونے کے یہودا کا نام لے تو اس کے مرنے پر اس کا جنازہ وہ نہیں پڑھتے ( یعنی مرنے پر جو رسوم ادا کی جاتی ہیں ور نہ اسلامی جنازہ ان میں نہیں ہوتا ) اور اسے برکت نہ دیتے تھے کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ اس کی نجات نہ ہوگی۔علماء بھی اگر اس نام کو لوگوں کے سامنے لیتے تو بگاڑ کر لیتے تا کہ گناہ نہ ہو۔اس نام کے متعلق ان کا اس قدر اختفاء کرنا ہی اس امر کا موجب ہوا کہ مصریوں نے بڑی کوشش سے اس نام کو دریافت کیا اور یہ خیال کر کے کہ اس نام کی برکت سے یہودیوں نے ہم پر فتح پائی تھی اس نام کو اپنے جادوں میں داخل کر لیا چنانچہ مصری جادوں میں یہووا کا نام ضرور لیا جاتا تھا۔اسلام میں خدا کا اسم ذار 66 مسلمانوں نے بھی اسی قسم کا دھوکا کھایا ہے اور وہ یہ ہے کہ ان میں عام خیال پھیلا ہوا ہے کہ خدا کا ایک نام ایسا ہے کہ عام لوگوں کے سامنے وہ نہیں لیا جاتا بلکہ صرف خاص خاص علماء کو اس کا علم ہے اور وہ اسے لوگوں سے پوشیدہ رکھتے ہیں اور خدا کا حکم بھی یہی ہے کہ اسے ہر اک پر ظاہر نہ کیا جائے ، اسے مسلمان ” اسم اعظم پکارتے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ پیر صاحب کی خدمت کر کے وہ نام حاصل ہوتا ہے اور جسے وہ نام حاصل ہو گیا اسے گویا سب کچھ مل گیا۔حالانکہ بات یہ ہے کہ یہودیوں کو تو کوئی نام ہی نہیں بتایا گیا تھا۔جو نام انہیں بتائے گئے تھے وہ یہووا سمیت صفاتی نام تھے اور ہمیں جو اسم اعظم دیا گیا ہے وہ اتنا ظاہر ہے کہ اسے کوئی چھپا ہی نہیں سکتا وہ نام ہے اللہ۔یہ چھپانے والا نام نہیں بلکہ ظاہر کرنے والا نام ہے اسی لئے کہا گیا ہے کہ بلند آواز سے