ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 95 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 95

۹۵ دوسرے یہ کہ اگر یہ ان کا کسی علم ہوتا تو وہ اپنی اولاد کو آگے یہ علم کیوں نہ سکھا جاتے مگر ہم تو دیکھتے ہیں کہ ان کی اولا د اکثر اوقات ان کی طرح خدا سے غیب پانے والی نہیں ہوتی یا اس حد تک نہیں ہوتی۔پس یہ اعتراض بالکل وہم اور بیہودہ ہے۔اب میں علم غیب کی چند مثالیں پیش کر کے بتاتا ہوں کہ کس طرح ان سے ایک عالم الغیب ہستی کا ثبوت ملتا ہے۔پہلی مثال تو حضرت مسیح موعود کی وہ پیشگوئی ہے جو آپ نے جنگ عظیم کے متعلق فرمائی۔جنگ سے نو سال پہلے آپ نے یہ خبر شائع کر دی تھی کہ ایک عالمگیر تباہی دُنیا میں آنے والی ہے جس میں زار روس تباہ ہوگا اور سخت تکلیف اور دُکھ دیکھے گا۔اس پیشگوئی میں بہت کی پیشگوئیاں مخفی ہیں۔اول یہ کہ ایک عظیم الشان جنگ ہونے والی ہے جو عالمگیر ہوگی۔دوسرے یہ کہ زار روس اس وقت تک باوجود ملک میں عام بغاوتوں کے پائے جانے کے اپنی ملک کی حکومت پر قابض رہے گا۔تیسرے یہ کہ اس عالمگیر جنگ میں زار روس بھی حصہ لے گا۔چوتھے یہ کہ اس کے دوران میں ایسے سامان پیدا ہوں گے کہ اس کی حکومت جاتی رہے گی۔پانچویں یہ کہ وہ اس وقت مارا نہیں جائے گا بلکہ زندہ رہے گا اور اپنی مصیبت اور ذلت کو دیکھے گا جو معمولی نہ ہوگی بلکہ کامل ذلت ہوگی۔اب دیکھو کہ نو سال کے بعد جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فوت بھی ہو چکے تھے یہ پیشگوئی کس زور سے پوری ہوئی۔ایک ایک بات اسی طرح واقع میں آئی جس طرح کہ آپ نے بیان فرمائی تھی۔یہ کیسا زبردست نشان ہے۔اگر کوئی ذرا بھی سوچے تو اسے معلوم ہو جائے گا کہ یہ نشان ایک علیم ہستی کے وجود پر زبردست شہادت ہے۔روس کے بادشاہ کی کتنی بڑی طاقت تھی مگر اچانک ایسے حالات پیدا ہو گئے اور وہ اس طرح ذلیل ہوا کہ پتھر سے پتھر دل کو اس کے حالات سُن کر رحم آ جاتا ہے۔جب وہ معزول ہوا اس وقت وہ خود فوج کی کمانڈ