ہستی باری تعالیٰ — Page 94
۹۴۴ کے ہاتھ میں شفاء دینے کی طاقت ہے۔صفت عالم الغيب ساتویں مثال کے طور پر میں صفت عالم الغیب کو پیش کرتا ہوں۔اس میں کیا شک ہے کہ اگر انسان کو بلا ظاہری تدابیر کے ایسے علوم پر آگاہی حاصل ہونے لگے جن کا جاننا انسان کے لئے ناممکن ہے تو ماننا پڑے گا کہ ایک عالم الغیب خدا موجود ہے۔جس کی طرف سے اپنے خاص بندوں کو خاص علم دیا جا تا ہے۔بعض لوگ کہہ دیا کرتے ہیں کہ یہ کیوں نہ مانا جائے کہ ایسے لوگوں کو علم غیب معلوم کرنے کا کوئی طریق معلوم ہو گیا ہے وہ اسی طریق کے ذریعہ سے علم غیب معلوم کر کے ایک و ہمیں خدا کی طرف منسوب کر دیتے ہیں۔مگر میں کہتا ہوں کہ اگر یہی بات ہوتی کہ ان لوگوں کو کوئی خاص طریق معلوم ہو گیا ہوتا تو وہ کیوں اس کے ذریعہ سے اپنی بڑائی نہ منواتے اور کیوں خواہ مخواہ اس علم کو کسی اور ہستی کی طرف منسوب کرتے اور ساتھ ہی اپنی کمزوری اور اس کی طاقت کا اظہار کرتے رہتے اور اپنے آپ کو اس کے مقابلہ میں پیچ اور ذلیل قرار دیتے۔دیکھو مشہور موجد ایڈیسن جب کوئی ایجاد کرتا ہے تو کیا وہ یہ کہتا ہے کہ مجھے کسی جن نے یا بالا طاقت نے یہ بات بتائی ہے یا جو اور موجد ہیں وہ کبھی ایسا کہتے ہیں کہ ہمیں فلاں شخص نے یہ ایجاد کر کے دی ہے بلکہ موجد تو یہی کہتے ہیں کہ ہم نے خود ایجاد کی ہے اس لئے ہماری قدر کرو لیکن علم غیب کے ظاہر کرنے والے تو سب کے سب کہتے ہیں کہ ہم جو کچھ کہتے ہیں اس میں ہمارا کوئی دخل نہیں خدا ہی ہمیں سب کچھ بتا تا ہے اور اس کے کہنے کے مطابق ہم کہتے ہیں۔