ہستی باری تعالیٰ — Page 96
۹۶ کر رہا تھا۔اسے دار السلطنت سے تارگئی کہ پیچھے ملک میں فساد ہو گیا ہے اس نے جواب دیا کہ لوگوں کو سمجھاؤ گورنر نے تار دی کہ لوگ سمجھانے سے نہیں باز آتے۔اس نے جواب میں تار دی کہ سختی کرو اس پر گورنر کی تار آئی کہ سختی سے اور بھی جوش بڑھ رہا ہے۔اس پر زار نے جواب دیا کہ اچھا میں خود آتا ہوں۔راستہ میں پھر تار ملی کہ فساد بڑھ رہا ہے۔زار نے جوابًا پہلے گورنر کو بدل کر دوسرے گورنر کے مقرر کئے جانے کی ہدایت بھیجی۔ابھی راستہ میں ہی تھا کہ اور تار لی کہ حالت بہت نازک ہو گئی ہے اور آپ کا آنا مناسب نہیں مگر اس نے جواب دیا کہ نہیں میں آؤں گا۔ابھی تھوڑی ہی دور ریل چلی تھی کہ پھر تار ملی کہ بغاوت عام ہو گئی ہے مگر اس وقت بھی اسے یہی خیال تھا کہ میں جا کر سب کو سیدھا کرلوں گا اور اس نے ریل کو آگے لے جانے کا حکم دیا ابھی دو چار گھنٹے کا سفر طے کیا تھا کہ ایک سٹیشن پر اس کی ریل ٹھہرالی گئی اور نئی حکومت کی طرف سے اس کی گرفتاری کے وارنٹ لیکر لوگ آپہنچے اور اسے گرفتار کر لیا وہ ایک زبر دست بادشاہ کی حیثیت میں ریل پر چڑھا تھا۔ہاں ایسے زبر دست بادشاہ کی حیثیت میں کہ انگریزی حکومت بھی باوجود اپنی وسعت کے اس سے ڈرتی تھی لیکن ابھی اس کا سفر ختم نہ ہوا تھا کہ اسی گاڑی میں ایک معمولی قیدی کی حیثیت میں قید کیا گیا۔اس کے بعد اسے جس طرح دُکھ دیئے گئے وہ نہایت ہی درد ناک ہیں غنڈوں نے اس کے سامنے اس کی لڑکیوں سے زنا بالجبر کیا اور اس کو مجبور کر کے یہ حرکات دکھاتے رہے اس سے اندازہ کرلو کہ زار کا حال کیسا حال زار ہوا اور کس طرح حضرت مسیح موعود کی یہ پیشگوئی کہ زار بھی ہو گا تو ہوگا اس گھڑی باحال زار ہیبت ناک طور سے پوری ہوئی۔اس صفت کے متعلق ایک چھوٹا سا تجربہ اپنا بھی سنا دیتا ہوں۔ہماری جماعت کے ایک ڈاکٹر ہیں ان سے متعلق خبر آئی کہ وہ بصرہ کی طرف مارے گئے ہیں۔اس خبر کے آنے تذکره صفحه ۵۴۰ ایڈیشن چہارم