ہستی باری تعالیٰ — Page 63
۶۳ کیوں شک کرتے ہو۔یہ کس طرح ممکن تھا کہ میں جو ہر خطرہ کو برداشت کر کے سچائی کو قائم رکھتا آیا ہوں اور جس کے چال چلن کی خوبی اور مضبوطی کا دوست دشمن معترف ہے یکدم اور ایک ہی رات میں اس قدر بگڑ گیا ہوں کہ اتنا بڑا جھوٹ میں نے بنالیا ہے کہ دُنیا کے خالق نے مجھے دنیا کی اصلاح کے لئے بھیجا ہے۔قرآن کریم میں ایک دوسرے نبی کے متعلق آتا ہے کہ اس وقت کے لوگ اس کی نسبت کہتے تھے يُصْلِحُ قَد كُنتَ فِيْنَا مَرْجُوا قَبْلَ هَذَا (هود: ۶۳) اے صالح ہمیں تو تم سے اس سے پہلے بڑی بڑی امیدیں تھیں۔تم بہت اچھے تھے مگر اب تمہیں کیا ہو گیا۔حضرت مسیح علیہ السلام بھی اپنے زمانہ کے لوگوں سے کہتے ہیں کہ مجھ میں کوئی عیب تو پکڑو۔غرض جس قدر انبیاء دُنیا میں گزرے ہیں وہ اپنے چال چلن اور صداقت کی معیت کی وجہ سے ایسے مقام پر تھے کہ ان کے دشمن بھی ان پر اعتراض کرنے کی گنجائش نہیں پاتے تھے اور اسی طرح ان کے اتباع میں سے لاکھوں صاحب کشوف و الہام لوگ ہوئے ہیں کہ جن کا چال چلن بھی ہر قسم کے شبہ سے بالا تھا اور ان کی راستبازی کا اعتراف ان کے دشمن بھی کرتے تھے۔حضرت موسیٰ کی پاک زندگی دیکھو فرعون حضرت موسیٰ کا کتنا سخت دشمن تھا مگر اس میں بھی یہ جرأت نہ تھی کہ ان پر جھوٹ کا الزام لگائے۔اس نے یہ تو کہا کہ یہ پاگل ہو گیا ہے یونہی باتیں بناتا ہے مگر یہ نہیں کہہ سکا کہ ان کا چال چلن خراب ہے حالانکہ وہ اس کے گھر میں پہلے تھے اگر ان میں کوئی خرابی ہوتی تو وہ ضرور بتاتا کہ ان میں یہ خرابی ہے۔