ہستی باری تعالیٰ — Page 64
۶ رسول کریم ﷺ کی پاک زندگی اسی طرح ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق دیکھتے ہیں کہ آپ کے دشمنوں نے اقرار کیا کہ آپ صادق اور امین تھے اور آپ پر انہوں نے کوئی الزام نہ لگا یا بلکہ دشمن سے دشمن نے بھی آپ کی طہارت اور پاکیزگی کی شہادت دی۔چنانچہ مکہ میں ایک مجلس ہوئی کہ باہر سے جب لوگ مکہ میں آئیں گے اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے متعلق پوچھیں گے تو ان کو کیا جواب دیں گے سارے مل کر ایک جواب بنا لو تا کہ اختلاف نہ ہو۔آگے ہی ہم بد نام ہو رہے ہیں کہ ایک کچھ کہتا ہے اور دوسرا کچھ کہتا ہے اس لئے حج پر جو لوگ آئیں گے انہیں کہنے کے لئے ایک بات کا فیصلہ کر لو اس پر ان میں سے ایک نے کہا یہ کہہ دینا کہ جھوٹ کی عادت ہے جو کچھ کہتا ہے سب جھوٹ ہے۔یہ سن کر ایک شخص جس کا نام نصر بن حارث تھا کھڑا ہوا اور اس نے کہا یہ بات نہیں کہنی چاہئے اگر یہ کہو گے تو کوئی نہیں مانے گا اور لوگ جو ابا کہیں گے کہ كَانَ مُحَمَّدٌ فِيكُمْ غُلَامًا حَدَئًا اَرْضَاكُمْ فِيْكُمْ وَاَصْدَقَكُمْ حَدِيثًا وَأَعْظَمَكُمْ آمَا نَةً حَتَّى إِذَا رَنَيْتُمْ فِي صُدُغَيْهِ الشَّيْبَ وَجَاءَ كُمْ بِمَا جَاءَكُمْ قُلْتُمْ سَاحِرٌ لَا وَاللهِ مَا هُوَ بِسَاحِرٍ - محمد نے تم میں جوانی کی عمر بسر کی ہے اور اس وقت وہ تم سب سے زیادہ نیک عمل سمجھا جاتا تھا اور سب سے زیادہ سچا سمجھا جاتا تھا اور سب سے زیادہ امانت کا پابند تھا یہاں تک کہ جب اس کی کنپٹیوں میں سفید بال آگئے اور وہ تمہارے پاس وہ تعلیم لایا جو وہ لایا ہے تو تم کہنے لگ گئے کہ وہ جھوٹا ہے خدا کی قسم ان حالات میں وہ جھوٹا نہیں ہو سکتا۔چنانچہ اس شخص کے اس جواب پر سب نے اپنی غلطی کو تسلیم کیا اور سیرت ابن ہشام جلد ۱، ۲ صفحه ۲۹۹ ،۳۰۰ موسسه علوم القرآن