ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 38 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 38

۳۸ اس وجہ کو فرضا درست بھی سمجھ لیا جائے تو بھی یہی ماننا پڑے گا کہ دُنیا کا پیدا کرنے والا ایک علیم و حکیم وجود ہے۔کیونکہ نیچر اس امر کا فیصلہ کیا کر سکتی ہے کہ کون علم جلدی سیکھتا ہے اور کون دیر میں؟ یہ کام تو ایک پالا رادہ اور علیم و حکیم ہستی ہی کر سکتی ہے۔دنیا کس طرح پیدا ہوئی ؟ اب میں پیدائش عالم کے متعلق قرآنی اصل بیان کرتا ہوں۔قرآن کریم میں خدا تعالیٰ یہ بتاتے ہوئے کہ دنیا کو اس نے کس طرح پیدا کیا فرماتا ہے۔قُلْ أَئِنَّكُمْ لَتَكْفُرُونَ بِالَّذِي خَلَقَ الْأَرْضَ فِي يَوْمَيْنِ وَتَجْعَلُونَ لَغَ أَندَادًا ذلك رَبُّ الْعَلَمِينَ وَجَعَلَ فِيهَا رَوَاسِيَ مِن فَوْقِهَا وَبَرَكَ فِيهَا وَقَدَّرَ فِيهَا أَقْوَاتَهَا فِي أَرْبَعَةِ أَيَّامٍ سَوَاءَ لِلسَّائِلِينَ ثُمَّ اسْتَوَى إِلَى السَّمَاءِ وَهِيَ دُخَانُ فَقَالَ لَهَا وَلِلْاَرْضِ انْتِيَا طَوْعًا اَوْ كَرْهًا قَالَتَا أَتَيْنَا طَائِعِينَ ط فَقَضْهُنَّ سَبْعَ سَموتٍ فِي يَوْمَيْنِ وَأَوْحَى فِي كُلِّ سَمَاءٍ أَمْرَهَا وَزَيَّنَا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيحَ وَحِفْظًا ذَلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ (لحم السجدة : ١٠ تا ١٣ ) فرماتا ہے۔ایک غالب اور علیم خدا جس کو پتہ تھا کہ وہ کیا کرنے لگا ہے اور کیا کرنا چاہئے اس نے اس دُنیا کو پیدا کیا۔اے منکر و! تم تو اس خدا کا انکار کرتے ہو جس نے زمین کو دو وقتوں میں پیدا کیا ہے، اور تم اس کے شریک قرار دیتے ہو۔وہ تو سب جہانوں کو آہستہ آہستہ نشو و نما دیکر کمال تک پہنچانے والا ہے اور اس نے زمین میں اس کے اوپر پہاڑ بلند کئے۔