ہستی باری تعالیٰ — Page 37
سم قوانین کے ذریعہ سے بنا تھا تو کیا وجہ کہ بندر اور اس سے اوپر کے ترقی یافتہ جانوروں کے بچپن کا زمانہ جبکہ بہت ہی چھوٹا تھا اور پیدا ہوتے ہی چلنے کے قابل ہو جاتے تھے اور چھ سات ماہ میں اپنے بچاؤ اور حفاظت کا سامان مہیا کرنے کے قابل ہو جاتے تھے تو انسان کے لئے یہ نئی بات پیدا ہوئی کہ وہ چھ سات ماہ تک ایک قدم اُٹھانے کے قابل نہیں ہوتا۔پھر آہستہ آہستہ ترقی کرتا ہے اور چودہ پندرہ سال تک ماں باپ کی مدد اور اعانت کا محتاج رہتا ہے۔یہ بچپن کے زمانہ کی لمبائی ان مجبوریوں کی وجہ سے نہیں ہے جو ارتقاء کے مسئلہ کے لازمی نتیجہ میں ہو کہ ہم اسے اس کی طرف منسوب کر دیں بلکہ یہ اس علمی ترقی کی وجہ سے ہے جس کے لئے انسان میں مخفی قو تیں رکھی گئی ہیں۔پس یہ امر ایک پالا رادہ قادر ہستی کی طرف منسوب کیا جاتا ہے نہ کہ ارتقاء کی عام رو کی طرف۔یہ کہا جا سکتا ہے کہ انسان کے دانت اس قسم کے اس لئے ہو گئے کہ اس کی غذاء مختلف قسم کی تھی۔یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ انسان کی دُم اس لئے نہیں رہی کہ وہ بیٹھنے کا عادی ہے ( گو یہ ایک بیہودہ دلیل ہے ) یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ اس کی انگلیوں کی شکل اس لئے بدل گئی کہ وہ اس قسم کا کام نہیں کرتا تھا جو دوسرے جانوروں کو کرنا پڑتا ہے۔مگر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اس کا بچپن کا زمانہ لمبا کیوں ہو گیا کیونکہ یہ تغیر مادی اسباب کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ ایک آئندہ پیش آنیوالے مقصد کے پورا کرنے کے لئے ہے اور آئندہ ضرورت کو اور پھر علمی ضرورت کو صرف بالا رادہ ہستی ہی پورا کر سکتی ہے۔اس جگہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ انسان کا بچہ چونکہ دیر میں علوم سیکھتا ہے اور حیوان کا بچہ جلدی سیکھ لیتا ہے اس لئے انسان کی بچپن کی عمر لمبی ہوتی ہے اور حیوان کی چھوٹی کیونکہ اول تو یہ ارتقاء کے خلاف ہے۔اگر ارتقاء کا مسئلہ درست ہے اور حیوان ہمیشہ ذہنی ترقی کی طرف قدم مارتا رہا ہے تو چاہئے کہ انسان کا بچہ جلدی سیکھے اور حیوان کا دیر میں۔لیکن اگر