ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 24 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 24

۲۴ قریب۔اور وہ دُور ہے اور سب سے زیادہ دُور۔اور بہت ہی قریب کی چیز بھی دکھائی نہیں دیتی اور بہت دور کی بھی دکھائی نہیں دیتی۔پس خدا تعالیٰ جو بندہ سے نہایت دور ہے بندہ اسے دیکھ نہیں سکتا۔اور اسی طرح وہ بندہ سے اس قدر قریب ہے کہ حبل الورید سے بھی زیادہ قریب ہے اس لئے بھی نظر نہیں آتا۔کیا کبھی کسی نے اپنی حبل الورید دیکھی ہے یا اگر کوئی پانی میں منہ ڈال لے تو اپنے آپ کو دیکھ سکتا ہے؟ پس ایک بات تو خدا کے متعلق ہم یہی کہتے ہیں کہ وہ چونکہ اتنا قریب ہے کہ حبل الورید سے بھی زیادہ قریب ہے اس لئے انسان اسے دیکھ نہیں سکتا۔انہی دنوں ایک دوست نے سنایا کہ ایک شخص جرمنی وغیرہ سے ہو کر آیا ہمیں نماز پڑھتے دیکھ کر کہنے لگا اس قسم کی ورزش کا کیا فائدہ؟ اس کی بجائے کوئی اور معقول ورزش کر لیا کرو جس کا کچھ فائدہ بھی ہو۔اسے کہا گیا یہ ورزش نہیں بلکہ عبادت ہے۔اس نے کہا کس کی عبادت؟ کہا گیا خدا کی عبادت۔اس نے کہا خدا کہاں ہے؟ اگر ہے تو دکھاؤ۔حسین تو اپنے آپ کو دکھاتے ہیں۔اگر خدا سب سے زیادہ حسین ہے تو کیوں چھپا ہوا ہے؟ اس دوست نے کہا کہ میں نے کاغذ پر اللہ لکھ کر دُور سے اسے دکھایا اس نے کہا کچھ نہیں نظر آتا۔پھر اسے کہا کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں یہ بھی فرماتا ہے کہ نَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ - (ق: ۱۷) میں انسان سے اس کی شاہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہوں اور اس کاغذ کو اس کی آنکھوں کے بالکل قریب رکھ دیا اور کہا بتاؤ اب تمہیں کیا نظر آتا ہے اس نے کہا اب تو کچھ نہیں نظر آتا۔اس پر اسے بتایا گیا کہ جب خدا اس سے بھی زیادہ قریب ہے تو وہ تمہیں ان آنکھوں سے کس طرح نظر آجائے۔تو خدا کو دیکھنے کا مطالبہ کرنے والوں کو مجمل جواب تو یہ دیا جاتا ہے کہ چونکہ خدا قریب سے قریب اور بعید سے بعید ہے اس لئے ان دونوں وجہ سے نظر نہیں آتا۔