ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 25 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 25

۲۵ ہر چیز کے دیکھنے کا طریق الگ ہے اور اس کا حقیقی جواب یہ ہے کہ ہر چیز کے دیکھنے اور معلوم کرنے کا طریق الگ ہے اور یہ کہنا کہ دوسری چیزوں کی طرح ہی خدا بھی ہمیں دکھاؤ نہایت ہی بیہودہ اور خلاف عقل سوال ہے۔ہم نے کب کہا ہے کہ خدا کوئی مادی چیز ہے جسے اور مادی چیزوں کی طرح دیکھا جاسکتا ہے۔کہتے ہیں کسی نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا وہ بادشاہ کے پاس جا کر کہنے لگا میں نبی ہوں مجھے قبول کرو۔بادشاہ نے کہا کس طرح معلوم ہو کہ تم نبی ہو۔وزیر نے کہا یہ تو کوئی مشکل بات نہیں۔ابھی اس کا فیصلہ ہو جاتا ہے۔یہ کہہ کر اس نے اس مدعی نبوت کے سامنے ایک تالا رکھ دیا اور کہا اگر تم نبی ہو تو اسے کھول دو۔اس نے کہا میں نے نبی ہونے کا دعویٰ کیا ہے نہ کہ لوہار ہونے کا کہ تالہ کھولوں۔یہی حال ان لوگوں کا ہے جو کہلاتے تو فلاسفر یعنی عقلمند ہیں مگر خدا کے متعلق اس قسم کا مطالبہ کرتے ہیں جس قسم کا وزیر نے مدعی نبوت سے کیا تھا۔انہیں اتنا تو سمجھنا چاہئے کہ ہم آٹے کا خدا نہیں مانتے اور نہ پتھر کا خدا مانتے ہیں۔اگر اس قسم کے خداؤں کو دیکھنا چاہتے ہیں تو مندروں میں دیکھ لیں۔ہم تو یہ کہتے ہیں کہ ہم ایک وراء الورا کی ہستی مانتے ہیں۔ہر چیز دیکھ کر نہیں مانی جاتی اور یہ صاف بات ہے کہ دُنیا کی ہر ایک چیز دیکھ کر ہی نہیں مانی جاتی۔بلکہ اور طریقوں سے بھی مانی جاتی ہے۔مادہ اشیاء میں سے بھی بعض کے وجود کا علم سونگھنے سے بعض کا چکھنے سے بعض کا ٹولنے سے بعض کا سننے سے معلوم ہوتا ہے۔پس اگر کوئی کہے کہ گلاب