ہستی باری تعالیٰ — Page 23
۲۳ توحید کے بلند مقام سے چل کر شرک کی تاریکیوں میں آگری تو کیوں نہ سمجھا جائے کہ پرانی اقوام جن میں شرک پایا جاتا ہے اسی طرح خالص توحید کے نقطہ سے شروع ہوئی تھیں مگر پھر تنزل اور جہالت کے زمانہ میں اصل تعلیم کو بھلا بیٹھیں۔غرض عقلا اور نقلاً یہ ہرگز محال نہیں کہ خدا تعالیٰ کا خیال قدیم سے چلا آیا ہو بلکہ عقل اور نقل دونوں اس امر کی تصدیق کرتی ہیں کہ یہ خیال قدیم سے اور الہام کے ذریعہ سے دنیا میں چلا آیا ہے اور مشرکانہ خیالات بعد کے ہیں۔پس منکرین خدا کا یہ اعتراض کہ اگر خدا تعالی واقعہ میں ہوتا تو ابتداء میں ایک خدا کا خیال ہوتا باطل ہے اور اس اعتراض کی بنیا د غلط واقعات پر رکھی گئی ہے۔اگر خدا ہے تو دکھاؤ ان ابتدائی بحثوں کے بعد جب خدا تعالیٰ کے وجود کے متعلق فکر کرنے کی ضرورت ثابت ہو جاتی ہے اور اس کے بغیر کوئی چارہ نظر نہیں آتا تو منکرین خدا یہ کہ دیا کرتے ہیں کہ اچھا ہم ماننے کو تیار ہیں لیکن تم خدا ہمیں دکھا دو۔چنانچہ پڑھے لکھے دہر یہ تک بھی یہی کہتے ہیں کہ لاؤ خدا دکھا دو پھر ہم مان لیں گے۔اگر خدا ہے تو چاہئے تھا کہ آسمان سے آواز آتی کہ میرے بندو ا کٹھے ہو جاؤ میں تمہیں اپنا منہ دکھاتا ہوں۔اگر صبح و شام اسی طرح ہوتا تو سب لوگ خدا کو مان لیتے۔پس اگر خدا ہے تو دکھا دو ہم مان لیں گے۔مجمل جواب اس کا مجمل جواب تو یہ ہے جو صوفیاء نے دیا ہے کہ وہ قریب ہے اور سب سے زیادہ