ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 284 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 284

۲۸۴ تبھی پوری طرح کار بند ہو سکے گا جبکہ وہ نیچے کے درجہ کی صفات پر اچھی طرح عمل کرلے گا۔نبی کی بددعا اور مباہلہ ایک اور سوال ہو سکتا ہے اور وہ یہ کہ جب نبی رب العالمین صفت کے مظہر ہوتے ہیں تو بد دعا یا مباہلہ کیوں کرتے ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ نبی خود بخود ایسا کبھی نہیں کرتے بلکہ خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت ایسا کرتے ہیں۔جیسے کہ حدیث میں آتا ہے کہ جب نبی کریم طائف میں گئے اور وہاں کے لوگوں نے آپ کو مارا اور آپ واپس آگئے تو پہاڑ کا فرشتہ آپ کے پاس آیا اور کہا اگر حکم ہو تو پہاڑ اکھاڑ کر ان لوگوں پر گرا دوں مگر رسول کریم نے فرمایا نہیں اور آپ نے دُعا کی کہ یا اللہ ا قوم کو پتہ نہیں کہ میں کون ہوں اسی طرح کہا یا اللہ ان کو ہلاک نہ کر شاید ان کی اولا د مسلمان ہو جائے یا اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی بعض بد دعا ئیں تو کی ہیں مگر وہ سب خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت تھیں۔مولوی عبد الکریم صاحب سناتے ہیں کہ رات کو ایک دن حضرت صاحب دعا مانگ رہے تھے مجھے ایسا معلوم ہوا کہ جیسے عورت دردزہ سے رو رہی ہوتی ہے۔جب میں نے غور سے سنا تو معلوم ہوا کہ حضرت صاحب کی گریہ کی آواز آرہی تھی۔وہ دن طاعون کے تھے آپ دعا فرمارہے تھے کہ الہی ! اگر ساری مخلوق مرگئی تو پھر تجھ پر ایمان کون لائے گا ؟ پس جب نبی کہتے ہیں کہ فلاں تباہ ہو جائے تو خدا تعالیٰ کے حکم سے کہتے ہیں اور خدا کے حکم کے ماتحت بد دعا کرتے ہیں۔پھر سوال ہوتا ہے کہ بددعا تو خدا کے حکم سے کرتے ہیں مگر مباہلہ کیوں کیا جاتا ہے؟ اسکے لئے یا درکھنا چاہئے کہ مباہلہ اس لئے کیا جاتا ہے کہ جس کو مباہلہ کے لئے بلایا جاتا ہے بخاری کتاب بدء الخلق باب اذا قال احد كم امين والملائكة فى السماء۔۔۔۔۔الخ