ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 283 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 283

۲۸۳ انتہائی مدارج گوئیں نے یہ بتایا ہے کہ اس صفت کے کامل مظہر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں مگر یہ بات نہیں کہ اور کوئی اس کا مظہر نہیں ہے بلکہ حق یہ ہے کہ سب نبی ہی اس مقام پر پہنچے ہوئے ہیں ہاں سب کے درجے الگ الگ ہیں کوئی زیادہ پر جلال مظہر ہے کوئی کم۔ان مدارج کو طے کرنے کا علم کس طرح ہو اب یہ بات رہی کہ کس طرح معلوم ہو کہ انسان نے ان مدارج کو طے کر لیا ؟ اس کے لئے یا درکھنا چاہئے کہ جس طرح مدرسہ میں پڑھنے والے طالب علموں کو اپنی جماعت سے اوپر کی جماعت میں ترقی تب ملتی ہے جب وہ اس جماعت کے مضامین کو جس میں وہ ہوں اچھی طرح یاد کر لیں اسی طرح وہی شخص اگلی صفت کی طرف ترقی کر سکتا ہے جبکہ وہ پچھلی صفت پر اچھی طرح عامل ہو جائے۔مگر جس طرح طالب علم کی ترقی اس لئے نہیں روکی جاتی کہ اسے ایک ایک نقطہ کیوں یاد نہیں اسی طرح بندہ اگر ایک صفت سے اچھی طرح مناسبت پیدا کر لیتا ہے تو گو اس میں بعض کمزوریاں ابھی ہوں اسے اوپر کی صفت کے حصول کی طاقتیں مل جاتی ہیں اور قلیل غلطیوں کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔اس موقع پر یہ سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ پچھلے مضمون سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ انسان کو مذکورہ بالا چاروں صفات پر باری باری عمل کرنا چاہیئے اس کا جواب یہ ہے کہ یہ تو سیر کا طریق ہے کہ الگ الگ منزلیں بنائی گئی ہیں ورنہ یوں انسان کو ہر وقت ہی سب صفات کی مشابہت کی کوشش کرنی چاہئے ہاں ترقی کامل تبھی ہوگی اور اوپر کی صفات پر وہ