ہستی باری تعالیٰ — Page 264
پیدا کی ہیں جن سے آگے انسان پیدا ہو سکے پھر جس طرح بچہ کو ماں باپ بڑھاتے ہیں کہ بڑا ہو کر ان کے کام آئے اسی طرح خدا تعالیٰ کرتا ہے۔خدا نے انسان کو سمجھنے کی طاقتیں دیں ہیں تا کہ وہ ان کے ذریعہ سے اسے سمجھ سکے اور ان طاقتوں کے پیدا کرنے میں اس نے جبر سے کام لیا ہے یعنی انسان کا اختیار نہیں رکھا کہ وہ طاقتیں لے یا نہ لے بعینہ جس طرح ماں باپ بچے کو بچپن میں جبڑا تعلیم دیتے ہیں۔اسی صفت کے ماتحت انسان کو انسانیت مطلقہ دی جاتی ہے۔اگر خدا تعالیٰ جیزا یہ طاقتیں سب کو نہ دے تو سب انسان مکلف بھی نہ رہیں ہاں جب انسان کو سمجھ آتی ہے تو پھر یہ اس کے ارادہ پر منحصر ہے کہ وہ ان طاقتوں کو استعمال کرے یا نہ کرے جس طرح کہ ماں باپ بچے کو پڑھا دیتے ہیں آگے وہ اس علم سے کام لے یا نہ لے یہ اس کے ارادے پر منحصر ہے۔چونکہ یہ صفت ہر ذرہ ذرہ سے تعلق رکھتی ہے اس لئے بوجہ اپنی وسعت کے اس قدر نمایاں نہیں اور انسان بھی اس کی طرف قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھتا بلکہ بعض خدا تعالیٰ کو ماننے والے بھی کہہ اُٹھتے ہیں کہ کس نے کہا تھا کہ خدا ہمیں پیدا کرے۔صفت رحمانیت اور رحیمیت کا جلوہ چونکہ ربوبیت کی صفت بہت مخفی تھی اس لئے اللہ تعالیٰ کی ذات نے اور تنزیل کیا اور صفت رحمانیت کا جلوہ دکھایا اور رحمانیت کے جلوہ میں ایسی چیزیں انسان کے لئے مہیا کیں کہ جن کی اسے ضرورت تھی۔جیسے ہوا، سورج، چاند وغیرہ چونکہ یہ جلوہ زیادہ ظاہر ہے لوگ اس کی قدر نسبتا زیادہ کرتے ہیں اور یہ کہہ اُٹھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کا بڑا احسان ہے کہ اس نے ہمارے آرام کے لئے اسقدر سامان پیدا کیا ہے۔مگر پھر بھی یہ صفت ایک حد تک