ہستی باری تعالیٰ — Page 265
۲۶۵ مخفی ہی ہے کیونکہ اس کا تعلق انسانی اعمال سے نہیں ہوتا اس لئے اس کا تعلق افراد سے نہیں بلکہ جنس سے ہوتا ہے۔پس خدا تعالیٰ نے ایک اور منزل تیار کی اور وہ صفت رحیمیت ہے اس کے معنے ہیں کہ انسان کام کرے تو بدلا پائے جو کام نہ کرے وہ نہ پائے۔اس صفت کے ماتحت خدا تعالیٰ کا تعلق افراد سے بھی قائم ہو گیا پس اس کا ظہور اور زیادہ واضح ہے۔صفت مالکیت کا جلوہ پھر صفات الہیہ نے اس سے بھی تنزیل اختیار کیا اور مالک یوم الدین کے رنگ میں جلوہ کیا۔ہر ایک انسان الگ الگ خدا کے حضور پیش ہوگا اس طرح خدا ہر ایک کے سامنے ہو گیا اور یہ صفت اتنی ظاہر ہوگی کہ جب قیامت کے دن لوگ خدا کے سامنے پیش ہوں گے تو نبی بھی کہیں گے نفسی نفسی ہر ایک کو اپنی اپنی فکر ہوگی، کسی اور کی فکر نہ ہوگی۔حدیثوں میں آتا ہے رسول کریم فرماتے ہیں کہ جب ایسی حالت ہوگی تو لوگ کہیں گے نبیوں کے پاس چلو اس پر وہ آدم، نوح" ، اور موسیٰ کے پاس آئیں گے۔مگر وہ نفسی نفسی کہیں گے پھر لوگ رسول کریم کے پاس آئیں گے اور آپ ان کی سفارش کریں گے اور یہ سفارش خدا کے وعدہ کے مطابق ہوگی نہ کہ اپنے زور سے تب لوگوں کا خطرہ دور ہوگا ہیں بندہ کا خدا تک پہنچنا اب جب بندہ اوپر چڑھے گا تو پہلے مالک کی صفت پر پہنچے گا۔پھر رحیمیت پھر رحمانیت پھر ربوبیت کی صفت پر اور پھر خدا کو دیکھ لے گا۔بخاری کتاب الانبیاء باب قول الله تعالی عزّ وجل ولقد ارسلنا نُوحًا إلى قومه