ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 263 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 263

۲۶۳ چاروں صفات میں سے تشبیہ اور تنزل کا حصہ کم رکھتی ہے اور زیادہ وسیع ہے اس سے کم رحمانیت اس سے کم رحیمیت اس سے کم مالکیت یوم الدین۔گویا جب اللہ تعالیٰ نے جو وراء الوریٰ ہے تنزیل اختیار کیا تو اس کی صفت رب العلمین ظاہر ہوئی جب اور تنزل کیا تو رحمانیت جب اور تنزیل کیا تو رحیمیت اور جب اور تنزیل کیا تو مالکیت یوم الدین کی صفت ظاہر ہوئی لیکن اس کے مقابلہ میں بندہ اللہ تعالیٰ کی طرف قدم بڑھائے گا تو وہ سب سے پہلے جس منزل پر پہنچے گا وہ مالکیت یوم الدین ہوگی اس کے بعد وہ رحیمیت اور اس کے بعد رحمانیت اور اس کے بعد ربوبیت عالمین کی منازل تک پہنچے گا گویا خدا تعالیٰ کی صفات کے تنزبل کی منازل کی پہلی منزل بندہ کے لئے آخری ہوگی اور ان کی آخری منزل بندہ کے لئے پہلی منزل ہوگی۔دوسری بات مذکورہ بالا قاعدہ کی رو سے یہ معلوم ہوئی کہ ملک یوم الدین کی صفت مخفی ہے اس سے ظاہر رحیمیت کی اس سے ظاہر رحمانیت کی اور اس سے ظاہر ربوبیت کی۔نت رب العلمین کا حلوہ غور کر کے دیکھ لورب العلمین کی صفت نہایت وسیع ہے وہ ساری دنیا سے تعلق رکھتی ہے۔سورج، چاند جانور وغیرہ سب پر محیط ہے اور اسی وجہ سے زیادہ مخفی ہے۔رب پیدا کرنے والے کو کہتے ہیں اور یہ صفت اتنی مخفی ہے کہ بعض اوقات لوگ کہہ دیتے ہیں کہ خدا نے کب کوئی چیز پیدا کی ہے اب پیدا کر کے دکھائے۔پھر ربوبیت کی صفت کے ماتحت وہ میلان بھی ہے جو ماں باپ کے اندر رکھا گیا ہے جس کی وجہ سے ماں باپ پرورش کرتے ہیں۔تو گویا خدا کی ربوبیت یہ ہوئی کہ اس نے بندہ کو پیدا کیا ہے اور اس کے اندروہ طاقتیں