ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 262 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 262

۲۶۲ جاتے ہیں اور جوں جوں وہ بندوں کی طرف آتی ہیں ان کا دائرہ تنگ ہوتا چلا جاتا ہے اور ان کا ظہور زیادہ واضح ہوتا چلا جاتا ہے۔دنیا میں تو ہم یہ قاعدہ دیکھتے ہیں کہ چھوٹی چیز بڑھ کر بڑی شکل اختیار کر لیتی ہے۔جیسے بیچ درخت کی شکل اختیار کر لیتا ہے یہی حالت انسانی ترقی کی ہے۔مگر خدا تعالیٰ کی صفات جب ظہور کریں گی تو چونکہ وہ تنزل اور تشبیہ اختیار کرتی ہیں اس لئے ان کا دائرہ تنگ ہوتا چلا جائے گا بالکل اسی طرح جس طرح دریا پہاڑ کی طرف چھوٹا ہوتا ہے یا جس طرح سورج کے لاکھوں میں انسانی آنکھ کی مناسبت سے ایک ٹکیا کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں۔اس تمام قاعدہ کو مد نظر رکھتے ہوئے جب ہم خدا تعالیٰ کی طرف جانے والے راستہ کو دیکھیں تو ہمیں ماننا پڑے گا کہ خدا تعالیٰ کی صفات جب تنزیل اختیار کرتی ہیں تو جو اُن کی پہلی منزل ہوگی وہ بندہ کی آخری منزل ہوگی اور جو اُن کی آخری منزل ہوگی وہ بندہ کی پہلی منزل ہوگی کیونکہ بندہ نیچے سے اوپر جارہا ہے اور وہ اوپر سے نیچے کو آ رہی ہیں۔اسی طرح یہ کہ خدا تعالیٰ کی صفات جب تنزیل اختیار کرتی ہیں تو ان کی پہلی منزل زیادہ وسیع ہوگی اور آخری سب سے تنگ۔لیکن بندہ کی ترقی اس کے الٹ ہوگی اس کی پہلی منزل زیادہ محدود ہوگی اور آخری بہت زیادہ وسیع کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کر رہا ہے۔خدا کی بندہ کی طرف آنے کی منزلیں اس قاعدہ کو مد نظر رکھتے ہوئے سورۃ فاتحہ سے سیر فی اللہ کا راستہ نہایت آسانی سے معلوم ہو جاتا ہے۔اس سورۃ میں چار صفات الہیہ بیان ہوئی ہیں۔رب العلمین، رحمن، رحیم ، ملک یوم الدین۔پچھلے قاعدہ کے مطابق یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ رب العلمین ان۔