ہستی باری تعالیٰ — Page 261
۲۶۱ ایک روحانی راستہ نظر آتا ہے اور وہ راستہ سورۃ فاتحہ میں بیان کردہ چار صفات الہیہ ہیں مگر راستہ کا لفظ بتاتا ہے کہ ان صفات کے حاصل کرنے میں ایک ترتیب ملحوظ ہے پہلے ایک صفت کو انسان حاصل کر سکتا ہے اس کے بعد دوسری کو پھر تیسری کو اور ہم تبھی اس راستہ پر چلنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں جب ہمیں یہ بھی معلوم ہو جائے کہ کس ترتیب سے ان صفات کو اپنے اندر ہمیں پیدا کرنا چاہئے۔اس سوال کو حل کرنے کے بعد ہمیں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ جب بندہ کی طرف آتا ہے تو وہ تنزل اور تشبیہ اختیار کرتا ہے ورنہ اس کی ذات وراء الورٹی ہے اور جب ایک اعلیٰ ہستی جو دراء الور کی ہو وہ محدود سے ملنے کے لئے آئے تو یقیناً وہ تدریجاً تشبیہ اور تنزل اختیار کرتی چلی جائے گی اس کے بغیر وہ اس سے کبھی مل نہیں سکے گی۔پس صفات الهيه جتنی جتنی بندہ کے ساتھ تعلق زیادہ پیدا کرتی چلی جائیں گی وہ اسی قدر تنزل اور تشبیہ اختیار کرتی چلی جائیں گی اور اس کے مقابلہ میں بندہ جس قدر خدا تعالیٰ کے قریب ہونے کی کوشش کریگا اسی قدر وہ مادیت کو چھوڑ کر وسعت اختیار کرتا چلا جائیگا۔اس امر کو سمجھنے کے لئے یہ فرض کر لو کہ خدا تعالیٰ کے پاس جانے کا رستہ ایک بڑے دریا کی طرح ہے اس کا وہ نقطہ جدھر بندہ ہے اس کی مثال پہاڑ کی سی ہے اور وہ نقطہ جس طرف خدا تعالیٰ ہے اس کی مثال سمندر کی سی ہے۔محدود اور چھوٹے نقطہ کی طرف دیکھو دریا چھوٹا ہوتا چلا جائے گا اور وسیع نقطہ کی طرف وسیع ہوتا چلا جائے گا لیکن ساتھ ہی یہ بھی ہوگا کہ جہاں وسعت ہوگی وہاں زور کم ہوگا اور جہاں تنگی ہوگی وہاں زور ہو جائیگا اور شور بھی بڑھتا چلا جائے گا۔یہی حال خدا تعالیٰ کی صفات کے ظہور کا ہے وہ بھی جوں جوں اس نقطہ کے قریب ہوتی ہیں جو خدا تعالیٰ سے تعلق رکھتا ہے زیادہ وسیع ہوتی چلی جاتی ہیں اور ان کے اثر مخفی ہوتے چلے