ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 257 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 257

۲۵۷ غرض پہلے تو انسان خدا کی صفات کا ظہور مانگتا ہے لیکن پھر کہتا ہے کہ یہ صفات ہی دے دے۔اب ساری صفات اس کے اندر پیدا ہونی شروع ہو جاتی ہیں اور اب وہ ایسا شیشہ ہوتا ہے کہ جس پر خدا کا عکس پڑنا شروع ہو جاتا ہے اور دُنیا اس کو دیکھتی ہے۔اسی لئے حضرت مسیح موعود کو الہام ہوا يَا قَمَرُ يَا شَمسُ اَنتَ منى وانا منك ( تذكره صفحه ۵۹۰،۵۸۸ ایڈیشن چہارم) گویا حضرت صاحب کو خدا نے کہا کہ تُو سورج ہے اور میں چاند ہوں اور میں سورج ہوں تو چاند ہے۔حضرت مسیح موعود کے اس الہام کا مطلب اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگ مجھے نہ جانتے تھے تو نے بتایا کہ وہ ہے اس لئے کو سورج ہے پھر تو اصل میں روشن نہیں ہے میں نے اپنا پر تو تجھ پر ڈالا ہے تب تو روشن ہوا ہے اس لئے میں سورج ہوں اور تُو چاند ہے۔اسی طرح بندہ خدا کی صفات کو لے کر خدا کو دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے غرض یہ تین قسم کے فوائد ہیں جو صفات الہیہ سے حاصل ہو سکتے ہیں۔لقاء الہی اس کے بعد ایک اور درجہ ہے جسے لقاء کہتے ہیں، اس کے معنے ہیں خدامل گیا۔لقاء کی تعریف کیا ہے اس کا مطلب یہ نہیں کہ خدا کے اندر شامل ہو جانا بلکہ یہ کہ خدا کی صفات جو جلوہ گری کریں ان کو اپنے اندر جذب کر لیتا۔حضرت مسیح موعود نے اس کی لطیف مثال دی ہے۔فرماتے ہیں لوہا لے کر آگ میں ڈالو تو اس کی پہلی حالت یہ ہوگی کہ