ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 18 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 18

کتنا اعلیٰ اور نبیوں والا خیال ہے جو اس دُعا میں ظاہر کیا گیا ہے کہ ممکن ہے میں کوئی چیز مانگوں اور وہ میرے لئے مضر ہو۔اس لئے اے خدا جو کچھ تجھے میرے لئے اچھا معلوم ہوتا ہے وہ دے۔یہ اس قوم کی دُعا ہے جسے بت پرست کہا جاتا ہے۔دیگر اقوام کے خیال اسی طرح کینیڈ والے قدیمی باشندے ایک خدا کو مانتے ہیں۔پھر آسٹریلیا کا علاقہ جو چند صدیوں سے ہی دریافت ہوا ہے اور جہاں کے لوگ دُنیا سے بالکل علیحدہ تھے اور اس قدر وحشی اور خونخوار تھے کہ ان کا قریبا خاتمہ کر دیا گیا۔ان کا ارشا (ARUNTA) نامی ایک قبیلہ ہے۔وہ ایک ایسے خدا کا قائل ہے جو آسمان پر رہتا ہے اسے وہ الٹیر ا (ALTJIRA) کہتے ہیں۔ان کا خیال ہے کہ وہ چونکہ حلیم ہے اس لئے سز انہیں دیتا اور اس لئے اس کی عبادت کی ضرورت نہیں۔افریقہ کا ایک وحشی قبیلہ جسے زولو (ZULU) کہتے ہیں ان میں بھی یہ عقیدہ پایا جاتا ہے کہ ایک غیر مرئی خدا ہے جو سب دُنیا کا باپ ہے۔اس کا نام انکولنکولو (UNKULUNKIVLU) بتاتے ہیں۔ہندوؤں میں خدا تعالیٰ کی غیر محدود طاقتوں کے متعلق خیال پایا جاتا ہے۔چنانچہ درونا کے متعلق وہ بیان کرتے ہیں کہ وہ عالم الغیب اور غیر محدود طاقتوں والا ہے۔چنانچہ اس کے متعلق ہندوؤں کا پرانا خیال ہے کہ اگر کوئی آدمی کھڑا ہو یا چلے یا پوشیدہ ہو جائے۔اگر وہ لیٹ جائے یا کھڑا ہو جائے یا جو دو آدمی اکٹھے بیٹھ کر ایک دوسرے سے سرگوشیاں کریں۔بادشاہ درونا اسے جانتا ہے وہ وہاں بطور ثالث موجود ہے۔