ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 17 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 17

12 زیادہ مادہ جمع ہو گیا۔اس جگہ نے دوسرے ذروں کو کھینچنا شروع کیا اور کرہ بڑھنے لگا اور اس میں گولائی آنے لگی۔اس طرح بہت بڑا کرہ بنا۔پھر اسکے ٹکڑے ہو گئے۔کوئی سورج بن گیا، کوئی چاند ، کوئی ستارے۔افریقہ کے قدیمی باشندوں کے خیال پھر افریقہ کی طرف آئیے۔وہاں کے پڑانے اور قدیمی باشندوں کے دماغ اتنے ادنیٰ درجہ کے ہیں کہ اگر انہیں پڑھایا جائے تو بڑھاپے میں سب کچھ بھول جاتے ہیں کیونکہ ان کے دماغ استقدر ادنی ہوتے ہیں کہ سیکھی ہوئی باتوں کو محفوظ نہیں رکھ سکتے۔ان میں بھی ایک وراء الوڑی ہستی کے خیال کا پتہ لگتا ہے۔چنانچہ ان کے ایک قبیلہ کا خیال ہے کہ ایک وراء الور کی ہستی ہے جو سب کی خالق ہے اور اسے وہ نینگمو (NYONGMO) کہتے ہیں۔بابلیوں میں خدا کا عقیدہ پھر بابلیوں میں بھی یہی عقیدہ پایا جاتا ہے۔چنانچہ بابل کے ایک نہایت ہی پرانے بادشاہ کی ایک دُعا نکلی ہے جو یہ ہے:۔کہ اے دائمی بادشاہ تمام مخلوق کے مالک تو میرا خالق ہے۔اے بادشاہ تیرے رحم کے مطابق۔اے آقا جو تو سب پر رحم کرنے والا ہے تیری وسیع بادشاہت رحم کرنے والی ہو۔اپنی الوہیت کی عبادت کی محبت میرے دل میں گاڑ دے۔اور جو کچھ تجھے اچھا معلوم دیتا ہے وہ مجھے دے۔کیونکہ تو ہی ہے جس نے میری زندگی کو اس رنگ میں ڈھالا ہے۔