ہستی باری تعالیٰ — Page 19
۱۹ ی زمین بھی درونا کی ہے اور آسمان اپنے وسیع فضا سمیت بھی اسی کا ہے۔وہ شخص آسمان سے بھی بھاگ کر نکل جائے وہ بھی بادشاہ رونا کی حکومت سے باہر نہیں جاسکتا۔“ اسی طرح آسٹریا کے قدیم وحشی باشندے نورینڈیئر (NURRENDIRE) کو شریعت دینے والا خدا سمجھتے ہیں۔دومبو ایک پرانا وحشی قبیلہ نوریلی (NURELLI) کے نام سے ایک زبر دست خدا کی پرستش کرتا ہے۔افریقہ کا مشہور مغربی بختو قبیلہ نزامی (NZAMBI) تمام دنیا کا پیدا کرنے والا اور بنی نوع انسان کا باپ قرار دیا جاتا ہے۔پس اس قدر قدیمی اور وحشی قبائل کے اندر ایک زبر دست غیر مرئی خدا کا خیال پایا جانا بتاتا ہے کہ آہستہ آہستہ خدا کا خیال نہیں پیدا ہو بلکہ الہامی طور پر آیا ہے۔اہل یورپ کا اعتراض بعض لوگ اوپر کے بیان پر اعتراض کر سکتے ہیں کہ یہ تو مانا کہ ایک غیر مرئی قادر مطلق خدا کا خیال پرانی اور قدیمی اقوام میں پایا جاتا ہے مگر یہ کس طرح معلوم ہو کہ یہ خیال بھی ان قوموں میں پرانا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اول تو خود وحشی قبائل میں الہام کا خیال موجود ہے پرانے سے پرانے قبائل کو لیا جائے وحشی سے وحشی قبائل کی روایات پر غور کیا جائے تو ان میں الہام کا خیال موجود ہے اور وہ یقین کرتی ہیں کہ ان کے پاس جو قانون ہے وہ خدا تعالیٰ نے الہام کیا ہے۔پس یہ شہادت جوان اقوام کی ہے جو الہام یا عدم الہام کی حقیقت سے ناواقف ہے بتاتا ہے کہ یہ خیال کسی تدریجی ترقی کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ الہام کے