ہستی باری تعالیٰ — Page 192
۱۹۲ اور اس سے چھین کر دکاندار کو واپس کرتا اور اس سے پیسے چھین کر اسے لا کر دیتا۔غرض یہ عجیب قسم کا کھیل بن جاتا جس سے انسان کی پیدائش کی غرض بالکل ہی باطل ہو جاتی۔معترض کہتے ہیں کہ ہم یہ کہتے ہیں کہ معدہ ہی ایسا بنادیا جاتا کہ جس قدر انسان کے جسم کے لئے ضرورت ہوتی اتنی چیز جذب کر لیتا اور باقی نکال دیتا لیکن اس کا مطلب یہ ہوا کہ معدہ کے اندر بھی ایک دماغ بنایا جاتا جو موجودہ دماغ سے بھی اعلیٰ ہوتا اور اسے پوری طرح طلب کا علم بھی ہوتا کہ جو چیز مضر ہوتی فوڑا اسے نکال کر باہر پھینک دیتا۔مگر کیا اس سے انسان کی انسانیت کچھ باقی رہ جاتی کیا وہ ایک مکمل مشین نہ بن جاتا جس کا اس کے اعمال پر کچھ بھی تصرف نہ ہوتا اور جب اس کا اس کے اعمال پر تصرف نہ ہوتا تو وہ ترقیات کا مستحق کس طرح بنتا اور پھر کیا جو چیز مضر معدہ میں جاتی اس کا نکال کر پھینک دینا خود ایک تکلیف دہ عمل اور بیماری نہ کہلاتا۔خارجی اثرات سے بیماری پھر بیماری خارجی اثرات سے پیدا ہوتی ہے۔مثلاً سردی لگ جاتی ہے جس سے کبھی گردوں میں درد ہو جاتی ہے یا کوئی اور تکلیف پیدا ہو جاتی ہے اس لئے بیماری نہ ہونے کے یہ معنی ہوئے کہ کوئی اثر انسان محسوس نہ کرتا نہ اسے سردی لگتی نہ گرمی۔گویا ایک نئی قسم کا انسان ہو تا گرم گرم روٹی اور ٹھنڈا پانی اس کے لئے کوئی حقیقت نہ رکھتا۔گرم لحاف اور پہاڑوں کی خوش کن ٹھنڈی ہوا اس کے لئے بے حقیقت ہوتی کیونکہ اس پر سردی گرمی کا کوئی اثر نہ ہو سکتا۔اب کسی سے دریافت کردو کہ آیا وہ یہ پسند کرتا ہے کہ اسے کبھی کوئی بیماری نہ ہو اور اس کی ساری حسیں ماری جائیں یا حسوں کا باقی رہنا اور بیماری کا امکان پسند کرتا ہے؟