ہستی باری تعالیٰ — Page 193
۱۹۳ پھر زبان ناک وغیرہ کی جو حستیں ہیں ان کا غلط استعمال بیماری پیدا کرتا ہے۔زبان کا مزا بعض دفعہ طاقت سے زیادہ کھانے کا موجب ہوتا ہے۔بیماری کے اسباب کے مٹانے کے یہ معنی ہیں کہ زبان کا مزا باطل کر دیا جائے مٹی اور شکر انسان کے منہ میں یکساں معلوم ہوں کڑوا اور میٹھا دونوں اس کے لئے برابر ہوں۔وہ انسان جو بیماری کا شکار ہوتا ہے اس سے پوچھ کر دیکھو تو کیا وہ موجودہ حالت پسند کرتا ہے یا اس قسم کی حالت کو جود ہر یہ تجویز کرتے ہیں۔پھر بیماری کا باعث جسم کی وہ جس ہے جس سے وہ تختی اور نرمی کو محسوس کرتا ہے یا انسان کے جسم کی نرمی ہے جس سے وہ اپنی ذات میں آرام محسوس کرتا ہے اس نرم جسم پر اگر زور سے چوٹ لگے تو وہ زخمی بھی ہوگا۔بیماری کے اسباب کے مٹانے کے ایک یہ معنی بھی ہوں گے کہ ان جنسوں کو مٹا دیا جائے مگر ان کو مٹا کر دیکھو کیا نتیجہ نکلے گا۔اپنے عزیزوں کو ہاتھ لگائے گا اور ان کے جسم کو پتھر کی طرح سخت پائے گا بلکہ اپنے جسم میں جس نہ ہوگی اور کچھ محسوس ہی نہیں کرے گا جس طرح فالج زدہ کے جسم کو کوئی چیز چھوتی ہے اور وہ کچھ محسوس نہیں کرتا کیا کوئی شخص بھی اس حالت کو پسند کرے گا؟ دنیا کے بہت سے لطف اور بہت سی دلبستگیاں چھونے کی جس سے ہیں اور اپنے جسم کی نرمی میں ہیں۔اب اگر بیماری کو دور کرنے کے لئے اس جس کو اور اس نرمی کو دور کر دیا جائے تو بیشک درد اور زخم تو مٹ جائے گا مگر انسان کا کیا باقی رہے گا؟ وہ ایک پتھر ہوگا جو نہ اپنے جسم کے آرام کو محسوس کر سکے گا نہ دوسروں سے چھونے کا کوئی لطف اسے حاصل ہو سکے گا بلکہ ایسے شخص کو کوئی اُٹھا کر بھی لے جائے تو اسے کچھ معلوم نہ ہو گا۔اس نقشہ کو کھینچ کر اپنے دل میں دیکھ لو کہ سردی گرمی کا احساس مٹ جائے ، گرمی