ہستی باری تعالیٰ — Page 133
سکتے ہیں۔یعنی وہ خود ہم تک آئے اور اپنے وجود کو ہم پر ظاہر فرمائے اور وہ ایسا ہی کرتا ہے اور اپنی ملاقات کے پیاسوں کو خود آکر اپنے شربت دیدار سے سیراب کرتا ہے۔خدا کی معرفت کس طرح حاصل ہوتی ہے؟ اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا علم تو ہمیں الہام کے ذریعہ سے ہو جائے گا لیکن اس کی معرفت ہمیں کس ذریعہ سے حاصل ہوسکتی ہے۔کیونکہ خالی علم اس تعلق کے لئے کافی نہیں جو خالق اور مخلوق کے درمیان ہونا چاہئے۔اس کا جواب یہ ہے کہ کسی چیز کی معرفت کامل حاصل کرنے کے تین طریق ہیں۔ایک تو یہ ہے کہ اس چیز کو پکڑ کر سامنے کر دیا جائے اور دوسرا آدمی اسے خوب اچھی طرح ٹٹول ٹال کر دیکھ لے اور اس کی پوری معرفت پیدا کر لے۔مثلاً ایک شخص کا نام سیف اللہ ہو۔جس نے اسکو نہ دیکھا ہو وہ اگر اس کی معرفت حاصل کرنا چاہے تو سیف اللہ کو پکڑ کر اس کے سامنے کر دیں گے کہ وہ یہ شخص ہے۔دوسرا طریق یہ ہے کہ اس چیز کی بناوٹ کو تفصیل کے ساتھ بیان کر دیا جائے مثلاً کسی ملک میں میز اور کرسی کا اگر رواج نہ ہو اور اسی ملک کے لوگ برسبیل تذکرہ میز و کرسی کا نام سنیں تو ان کو واقف کرنے کے لئے یہ ذریعہ اختیار کیا جائے گا کہ میز اور کرسی کی شکل اور بناوٹ اور ان کا کام تفصیل سے ان کو بتا دیا جائے گا اور اس سے ایک اندازہ انکے ذہن میں میز اور گرسی کی نسبت پیدا ہو جائے گا۔تیسرا طریق یہ ہے کہ جو اُن چیزوں کے متعلق استعمال کیا جاتا ہے جو مرئی نہیں ہیں یہ ہے کہ ان کی صفات کے ذریعہ سے ان کی معرفت کرائی جاتی ہے۔مثلاً نور ہے یہ ایسی چیز نہیں