ہستی باری تعالیٰ — Page 134
م ۱۳ کہ اس کی بناوٹ بیان کر سکیں۔اس لئے ایک اندھے کے سامنے اس کی صفات ہی بیان کی جائیں گی۔اس کے ذریعہ سے آنکھ بغیر ٹو لنے کے معلوم کر لیتی ہے کہ کسی چیز کی لمبائی کیا ہے چوڑائی کیا ہے اور اونچائی کیا ہے۔رنگ کی کیفیت اندھا سمجھ نہیں سکتا اس بیان سے اندھا کچھ نہ کچھ اندازہ کر لے گا۔اسی طرح اور کئی چیزیں ہیں کہ جن کی صفات بیان کرنے سے ان کا پتہ لگا یا جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی شناخت بھی اس طریق سے ہوتی ہے۔وہ صفات ہی کے ذریعہ سے انسان کے سامنے آتا ہے اور صفات ہی کے ذریعہ سے انسان اسے پہچان سکتا ہے۔کیا خدا ایک ہی ہے یا ایک سے زیادہ خدا ہیں؟ جب سے تاریخ عالم کا پتہ چلتا ہے یہ سوال بنی نوع انسان کے سامنے رہا ہے کہ کیا خدا ایک ہی ہے یا ایک سے زیادہ ہستیاں ہماری اطاعت و فرمانبرداری کی مستحق ہیں؟ اس سوال کا جواب اسلام نے نہایت واضح اور زور دار الفاظ میں یہ دیا ہے کہ خدا صرف ایک ہے اور کوئی ہستی اس کی شریک نہیں۔بلکہ عقلاً بھی ایسی ہستی ایک ہی ہو سکتی ہے دو نہیں ہوسکتیں۔یہ بالکل ناممکن ہے اور ہماری عقل ہی نہیں سمجھ سکتی کہ دو محیط کل ہستیاں ہوں۔دوکا لفظ ہی حد بندی پر دلالت کرتا ہے اور حد بندی کے ساتھ اس غیر محدود قوت کا خاتمہ ہو جاتا ہے جو خدا کے خیال کے ساتھ لازم و ملزوم ہے۔پس خدا ایک ہی ہو سکتا ہے ، دوخدانہیں ہو سکتے۔