ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 5 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 5

اور آنکھوں دیکھی باتوں پر عقیدہ رکھنے سے خدا کے کلام کا انکار ہوتا ہے تو خدا کا کوئی وجود ہی نہیں۔کیونکہ کس طرح ممکن ہے کہ خدا کا کلام کچھ اور کہے اور اس کا فعل کچھ اور۔اس وجہ سے وہ مذہب کے خلاف ہو گئے اور فلسفی جو مذہب پر پہلے سے ہی معترض تھے ان کے مددگار ہو گئے اور علوم کی ترقی کے ساتھ ساتھ مذہب کی گرفت بھی کم ہوتی چلی گئی۔مشرق میں جب ان علوم کا رواج ہو ا تو چونکہ کتابیں لکھنے والے مسیحیت سے تنگ آکر دوسری حد کی طرف نکل گئے تھے جس طرح پادری ہر ایک علمی تحقیق کو کلام الہی کے خلاف ثابت کرتے تھے۔انہوں نے ہر ایک علمی تحقیق سے یہ نتیجہ نکالنا شروع کیا کہ خدا ہی کوئی نہیں اور ان کی کتب کے مطالعہ کا یہ نتیجہ نکلا کہ وہ دل جو پہلے ہی زنگ آلود تھے خدا تعالیٰ کی طرف سے بالکل دُور جا پڑے اور طبائع دہریت کی طرف مائل ہو گئیں۔فلسفی خیالات کے متعلق ایک اور مصیبت ہے اس میں صرف دماغ کی تر و تازگی کا سامان ہے، کرنا کرانا کچھ نہیں پڑتا اس لئے بہت سے لوگ اس کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔اس کے خلاف مذہب پر غور و تدبر کرنے کا نتیجہ عملی اصلاح ہے جو لوگوں پر گراں گزرتی ہے۔مثلاً جو شخص اسلام پر غور کرے گا اور اس کی خوبی کا قائل ہوگا اس کو ساتھ ساتھ کچھ کرنا بھی ہوگا اور مذہب میں ترقی کے ساتھ ساتھ عمل میں بھی ترقی ہوتی چلی جائے گی۔اگر پہلے فرض شروع کرے گا تو اور غور کرنے پر سنتیں بھی پڑھنے لگ جائے گا اور پھر جب اور غور کرے گا تو اسے معلوم ہوگا نوافل بھی بہت مفید ہیں یہ بھی پڑھنے لگ جائے گا اور جوں جوں غور کرے گا نوافل میں ترقی کرتا جائے گا۔غرض مذہب میں انسان جس قدر غور وفکر سے کام لے گا اسی قدر زیادہ پابندیاں اپنے اوپر عائد کرتا جائے گا۔مگر فلسفہ میں یہ بات نہیں ہوتی