ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 6 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 6

صرف دماغ تازہ کیا جاتا ہے اور عملی طور پر کیا کرایا کچھ نہیں جاتا اس لئے لوگ ادھر زیادہ متوجہ ہو جاتے ہیں۔غرض دہریت اور خدا کے انکار کا اس زمانہ میں بڑا زور ہے۔ایک وجہ اس انکار کی یہ بھی ہے کہ عام طور پر لوگ خود تحقیق نہیں کرتے بلکہ ان کے مذہب کی بنیاد صرف ماں باپ کے ایمان پر ہوتی ہے اور جن لوگوں کی اپنی تحقیق کچھ ہو ہی نہیں وہ اعتراض کا دفعیہ نہیں کر سکتے بلکہ جلد ان سے متاثر ہو جاتے ہیں۔کیونکہ ایک طرف سنی سنائی بات ہوتی ہے اور دوسری طرف دلیل۔اگر وہ لوگ دل سے خدا تعالیٰ کو مانتے ہوتے تو اس قدر دہریت نہ پھیلتی۔مثلاً یہ میز پڑی ہے یا یہ سائبان ہے۔اگر کوئی فلسفی کہے کہ یہ میں نہیں یا یہ سائبان نہیں یا اس وقت سورج چڑھا ہو انہیں۔تو کیا یہ ممکن ہے کہ آپ لوگوں میں سے کوئی اس کی بات مان لے۔اسی طرح اگر لوگوں نے خدا تعالیٰ کو دیکھا ہوتا اسے حقیقی طور پر مانتے تو کس طرح ممکن تھا کہ خدا تعالیٰ کا انکار کرنے والوں کی بات مان لیتے۔بات یہی ہے کہ ایسے لوگوں نے خود نخور نہیں کیا ہوتا دوسروں کے کہنے پر مانتے ہیں اس لئے اگر کوئی ذرا ٹھوکر لگا دے تو کہیں کے کہیں جا گرتے ہیں۔ایسے لوگ اگر خدا تعالیٰ کی ہستی کا اقرار کرتے ہیں تو اس لئے کہ بحثیں نہ کرنی پڑیں۔جیسے غیر احمد یوں کو جب کہیں کہ حضرت عیسی کی وفات پر گفتگو کر لو تو اس سے بچنے کے لئے کہہ دیتے ہیں فرض کر لو حضرت عیسی مر گئے۔اسی طرح جو لوگ مثلاً مسلمانوں کے گھر پیدا ہوئے ہیں وہ اپنے قومی مذہب کو اپنے مذہب کے خلاف دیکھ کر اور بحث سے بچنے کے لئے جب سوال ہو تو کہہ دیتے ہیں کہ ہم خدا کو مانتے ہیں اور بعض لوگ تو اپنے آپ کو ذہنی کشمکش سے بچانے کے لئے اپنے نفس کو بھی دھو کے میں رکھتے ہیں اور جب ان کے دل میں شک پیدا ہو تو بلا کسی دلیل کے اس کو دبانے کی کوشش کرتے ہیں۔یہ لوگ بھی درحقیقت دہر یہ ہیں گو بظاہر خدا کو مانتے ہیں۔