ہستی باری تعالیٰ — Page 4
کو عوام الناس پر حاصل تھا علوم ہی کی مخالفت شروع کر دی اور جو بات بھی علوم طبیعیہ کے متعلق نئی دریافت ہوئی اسے کفر قرار دے دیا اور کہدیا کہ یہ مذہب کے خلاف ہے اور اس کی طرف توجہ کرنا گناہ ہے۔چنانچہ ایک شخص نے جب دریافت کیا کہ زمین سورج کے گرد گھومتی ہے تو اس کے متعلق پادریوں نے فتویٰ دیدیا کہ یہ مذہب سے نکل گیا ہے۔آپ حیران ہونگے کہ زمین کے سورج کے گرد گھومنے کا دعوی کر کے و شخص کس طرح مسیحیت سے نکل گیا مگر اس کا جواب آسان ہے۔پادریوں نے اس کی وجہ یہ بتائی کہ خدا تعالیٰ کا کلام انسان پر نازل ہوا ہے اور انسان زمین پر بستا ہے اس لئے زمین سب سے اعلیٰ ہوئی۔لیکن اگر زمین سورج کے گرد گھومتی ہے تو زمین سورج کے مقابلہ میں ادنی ہوگی تو اس کی ذلت میں شبہ نہ رہا اور اس پر بسنے والے بھی ذلیل ہو گئے اس بناء پر اس پر کفر کا فتویٰ دے دیا گیا اور اسے اتنا تنگ کیا گیا کہ آخر اس نے ایک کتاب لکھی جس میں لکھا کہ میں نے سورج کے گرد زمین کے گھومنے کے متعلق جو کچھ لکھا تھا اگر چہ عقل کے رو سے ایسا ہی ثابت ہوتا ہے مگر انسانی عقل ہے کیا چیز کہ اس پر بھروسہ کیا جاوے۔اصل بات یہ ہے کہ شیطان چونکہ انسان اور خدا کا دشمن ہے اور خدا کے نور کو دُنیا میں پھیلنے سے روکتا ہے اس لئے اس نے میرے دل میں یہ خیال ڈال دیا اور مجھے اس وقت ایسا معلوم ہونے لگا کہ زمین گھومتی ہے۔یہ عذر کر کے اس نے عقلمندوں کی نگاہ میں تو اپنے دعوئی کو پختہ کر دیا لیکن پادریوں نے اپنی بیوقوفی سے سمجھا کہ اب اس کو عقل آگئی ہے اور اس کی توبہ قبول کی گئی۔اس قسم کی باتوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایجادیں کرنے والے اور نئی نئی باتیں دریافت کرنے والے خدا کے ہی خلاف ہو گئے۔انہوں نے سمجھا کہ اگر ثابت شدہ باتوں