ہستی باری تعالیٰ — Page 75
۷۵ بیہودہ بات کہہ رہا ہے۔اگر کوئی فلسفی کہے کہ زید نہیں ہے اور اس کے نہ ہونے کے دلائل بھی پیش کرے مگر زید سامنے بیٹھا ہو تو اس فلسفی کو پاگل ہی کہا جائے گا۔اسی طرح جس نے خدا کی باتیں سنیں اسے اگر کوئی کہے کہ خدا نہیں ہے تو وہ اسے پاگل ہی سمجھے گا۔پس ہزاروں نبیوں اور دوسرے لوگوں کو جو الہام ہوتے ہیں اور وہ خدا کی باتیں سنتے ہیں یہ خدا تعالیٰ کی ہستی کا ایک زبردست ثبوت ہے۔صفت تکلم پر اعتراض اور اس کا جواب اس دلیل پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ اگر خدا تعالیٰ انسانوں سے بولتا اور کلام کرتا ہے تو پھر مذاہب میں اختلاف کیوں ہے؟ اگر خدا بولتا تو کسی کے کان میں کچھ اور کسی کے کان میں کچھ اور کیوں کہتا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے تو ایک ہی تعلیم ملاتی ہے۔ہاں بعد میں لوگ چونکہ اس میں اپنی طرف سے باتیں ملا دیتے ہیں اس لئے اختلاف ہو جاتا ہے۔جیسے قانون قدرت خدا تعالیٰ کی طرف سے مقرر ہے مگر لوگ اس میں ہزاروں قسم کی باتیں اپنی طرف سے ملا دیتے ہیں۔اس لئے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ساری باتیں جولوگ پیش کرتے ہیں قانون قدرت ہی ہے۔مثلاً کوئی کہے کہ میں نے ایجاد کی ہے کہ لکڑی سے زندہ گھوڑا بنا لیتا ہوں یہ سن کر یہ نہیں کہا جائے گا کہ قانونِ قدرت غلط ہو گیا ہے بلکہ یہ کہا جائے گا کہ جو کچھ وہ کہتا ہے وہ غلط ہے اور صیح یہی ہے جو قانون قدرت کے ماتحت ہے کہ لکڑی کا زندہ گھوڑا نہیں بن سکتا۔