ہستی باری تعالیٰ — Page 74
لکھا ہے کہ: ظاہر ہو۔کہ یہ جاں آگ میں پڑ کر سلامت آنے والی ہے اگر انبیاء کی مخالفت نہ ہو تو لاغلب انا وَرُسُیلی کی شان اور شوکت کس طرح مفت تظلم سے خدا تعالی کی ہستی کا ثبوت کا ثب دوسری صفت جسے میں اس وقت پیش کرنا چاہتا ہوں صفت تکلم ہے۔اگر ایک ہستی انسان سے کلام بھی کرتی ہے اور اپنے عندیہ اور منشاء کو ظاہر بھی کرتی ہے تو کس طرح کہا جا سکتا ہے کہ انسان سے بالا ہستی اور کوئی نہیں اور دنیا پر کوئی حکمران نہیں۔قرآن کریم میں آتا ہے إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلِئِكَةُ إِلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَابْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ (لحم السجدۃ: ۳۱) جب مؤمن کہتے ہیں کہ خدا ہے اور اس پر استقامت دکھاتے ہیں تو ان پر خدا فرشتے بھیجتا ہے کہ جاؤ ان کو سناؤ کہ میں واقع میں ہوں تم کوئی خوف اور غم نہ کرو اور وہ جنت کہ جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا اس کی بشارت پا کر خوش و خرم ہو جاؤ۔ہزاروں اور لاکھوں نبی ایسے ہوئے ہیں جن کو خدا کی طرف سے بتایا گیا کہ میں ہوں اور ان کی جماعتوں میں بھی ایسے لوگ ہوتے رہے ہیں اور اب ہماری جماعت میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا ہے خود مجھے بھی اللہ تعالیٰ کے محض فضل سے اس کا تجربہ ہے۔اب اگر کوئی مجھے سنائے کہ خدا نہیں تو میں کس طرح اس کی بات مان سکتا ہوں۔میں تو تعجب سے اس کے منہ کو ہی دیکھوں گا کہ کیسی