ہستی باری تعالیٰ — Page 76
24 لپس وہ لوگ جو اپنی عقل سے باتیں بناتے اور پھر خدا کی طرف منسوب کر دیتے ہیں۔ان کے عقلی ڈھکوسلوں کا الزام خدا تعالیٰ پر عائد نہیں ہو سکتا بلکہ ان کی عقلوں پر عائد ہوگا اور ایسے لوگوں کے متعلق خدا تعالیٰ نے یہ قانون بنا دیا ہے کہ وَلَوْ تَقَولَ عَلَيْنَا بَعْضَ الأقاويل لأخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ (الحاقة : ۴۵ تا ۴۷) اگر کوئی اللہ کی طرف اپنے پاس سے بات بنا کر جانتے بوجھتے ہوئے منسوب کر دے گا تو وہ اس کی رگ جان کو کاٹ دے گا۔اب کوئی خدا پر جھوٹا افتراء کر کے دیکھ لے۔وہ لوگ جو خدا کے منکر ہیں وہی کھڑے ہو جائیں اور جان بوجھ کر ایسی باتیں بنا کر جنہیں وہ جانتے ہیں کہ خدا نے نہیں کہیں خدا کی طرف منسوب کریں کہ اس نے یہ باتیں کہی ہیں اور ہمیں ان کی اشاعت کے لئے مبعوث فرمایا ہے پھر اصرار سے اس دعوی کی اشاعت کریں پھر دیکھ لیں کیا نتیجہ ہوتا ہے۔اختلاف زمانہ کی وجہ سے مذاہب میں اختلاف دوسرا جواب یہ ہے کہ مذاہب میں کچھ حصہ اختلاف کا زمانہ کی ضروریات کے ماتحت ہوتا ہے مگر دراصل وہ اختلاف نہیں کہلا سکتا۔مثلاً طبیب ایک نسخہ لکھتا ہے مگر جب مریض کی حالت بدل جاتی ہے تو دوسرا لکھتا ہے۔ان میں اختلاف نہیں کہا جا سکتا بلکہ ضرورت کے ماتحت جیسا مناسب تھا ویسا کیا گیا۔کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ طبیب کا کیا اعتبار کہ کبھی کچھ دیتا ہے کبھی کچھ بلکہ سب جانتے ہیں کہ مریض کی اندرونی تبدیلی کی وجہ سے نسخہ بدلا ہے۔یہی حال دین کا ہے۔جب بنی نوع انسان کی ذہنی حالت میں ارتقاء حاصل ہوتا ہے خدا تعالیٰ کی طرف سے نئی تعلیم ان کومل جاتی ہے۔