ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 59 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 59

۵۹ اعتراض پر اعتراض مگر اس اعتراض پر ہمارا یہ اعتراض ہے کہ تم کہتے ہو کہ یہ باتیں ماں باپ سے درشہ میں چلی آتی ہیں۔مگر یہ بتاؤ کہ ماں باپ کے دل میں کس طرح سے یہ احساس پیدا ہوئے؟ اس کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ انہوں نے تجربہ سے ان اخلاق کو معلوم کیا اور جن چیزوں نے نقصان دیا ان کو برا قرار دے دیا اور نفع دینے والی چیزوں کو اچھا اور اپنا نفع نقصان ہر شخص سمجھ سکتا ہے کسی کے سمجھانے کی ضرورت نہیں ہے۔جن چیزوں کو اچھا کہا جاتا ہے وہ سب کی سب مفید ہیں اور جن کو بُرا کہا جاتا ہے وہ سب کی سب مضر۔اگر نیکیاں ایسی باتیں ہوتیں کہ جن کا کوئی فائدہ نہ ہوتا اور پھر لوگ انہیں کرتے تو کہتے خدا نے دل میں ڈالی ہیں۔اور نقصان رساں چیزوں سے نقصان نہ ہوتا اور پھر ان سے لوگ بچتے تو سمجھتے خدا نے یہ سکھایا ہے مگر ایسا نہیں ہے۔اس لئے یہ کہا جائے گا کہ لوگ اچھی باتوں کو ان کے فائدہ کی وجہ سے کرتے اور بُری باتوں کو ان کے نقصان کی وجہ سے چھوڑتے ہیں۔گو اس کا حقیقی اصلی جواب تو اور ہے۔مگر بوجہ طوالت میں اسے چھوڑتا ہوں اور صرف اس جواب پر اکتفا کرتا ہوں کہ بعض نیکیاں ایسی بھی ہیں کہ انسان کا ان کے کرنے میں بظاہر کوئی فائدہ نہیں نظر آتا مگر وہ کرتا ہے حتی کہ دہر یہ بھی کرتا ہے۔مثلا یہ کہ ماں باپ بچے سے جو سلوک کرتے ہیں وہ اس کے بچپن میں ہی کر چکتے ہیں۔مگر ایک دہر یہ بھی اس بات کا اعتراف کرے گا کہ ان کی عزت کرنی چاہئے۔حالانکہ انسان کے لئے اس میں کوئی فائدہ نظر نہیں آتا اور اس کے خلاف کرنے کا اگر کوئی نقصان ہوسکتا ہے تو یہی کہ لوگ آئندہ بچوں کی پرورش کرنا چھوڑ دیں۔مگر اس میں ان لوگوں کا کیا نقصان ہو گا جو جوان ہو چکے ہیں