ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 58 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 58

۵۸ دے۔آپ نے کہا کیا تم مال سنار کو دیدیا کرتے ہو؟ اگر وہ اس میں سے کچھ مال کھا جائے تو کیا کرتے ہو؟ اس پر وہ بے اختیار ہو کر کہنے لگا کہ اگر سنار ہمارا مال کھا جائے تو ہم ایسے بے ایمان کو مارنہ دیں۔اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ فطرت انسانی کے اندر نیکی کا میلان اس طرح راسخ ہے کہ انسان خواہ کس قدر بھی بگڑ جائے وہ میلان اس کے اندر باقی رہتا ہے اور جب بھی کسی محترک کے ذریعہ سے یا نقطہ فکر کے بدل دینے سے اسے زندہ کیا جائے وہ زندہ ہو جاتا ہے اور نئی طاقت کے ساتھ ظاہر ہو جاتا ہے۔پس فطرت میں برائی سے نفرت اور نیکی کی خواہش کا ہونا خدا کی ہستی کی بہت بڑی دلیل ہے۔اعتراضات کا جواب اس دلیل پر بھی اعتراض کئے جاتے ہیں۔مثلاً یہ کہ جن کو اخلاق کہا جاتا ہے وہ فطری اخلاق نہیں بلکہ ورثے کے طور پر کچھ باتیں ہیں۔ہمارے ماں باپ نے تجربہ کر کے جن باتوں کو نقصان دہ پایا ان کو ہم بُرا سمجھتے ہیں اور جن کو مفید پایا ان کو اچھا۔مثلاً چوری ہے انسان جانتا ہے کہ میں نے کسی کا مال چرا یا تو وہ بھی ہمارے مال کو چرالے گا اور اس سے خواہ مخواہ کی پریشانی ہی ہوگی اس لئے اس خوف سے جو انسان کے دل میں اس فعل کے نتائج کے متعلق پیدا ہوا یہ بات اسے اچھی نہ نظر آئی اور آہستہ آہستہ یہ خیال بطور ورثہ کے اگلی نسلوں میں منتقل ہوتا چلا گیا۔پس بدی سے نفرت در حقیقت اس تجربہ کا ورثہ ہے جو انسان کو اپنے آباء سے ملا ہے۔اس کا فطرت انسانی سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ کسی بالا ہستی نے یہ میلان انسان کے اندر رکھا ہے اور اس لئے یہ ہستی باری کا ثبوت نہیں کہلا سکتا۔