ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 21 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 21

۲۱ وجہ سے خوب مشہور ہے اس شہر کی تاریخ نہایت قدیم ہے اس سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ اس میں پرانے زمانہ میں ایک خدا کا خیال موجود تھا۔تیرا جوار تیسرا جواب یہ ہے کہ قدیم اقوام کے متعلق یہ کہنا کہ ممکن ہے ان میں ایک خدا کا خیال بعد میں پیدا ہو گیا ہو عقلاً غلط ہے کیونکہ یہ ایک ماناہو ا قاعدہ ہے کہ جو خیال کسی قوم میں بعد میں پیدا ہو اس کی عظمت زیادہ ہوتی ہے اور جو دیوتا بعد میں مانا جائے اس کی عبادت زیادہ ہوتی ہے اور یہ بات تمام قدیم اقوام کے حالات سے معلوم ہوتی ہے کہ ان میں ایک خدا کا خیال تو موجود ہے لیکن پرستش چھوٹے دیوتاؤں کی زیادہ ہے اگر یہ خیال درست ہے کہ تدریج سے ایک خدا کا خیال پیدا ہوا ہے تو چاہئے تھا کہ تمام اقوام میں ایک خدا کی پرستش زیادہ ہوتی اور چھوٹے دیوتا اگر باقی بھی رہتے تو محض روایت کے طور پر حقیقتا لوگوں کا ان سے لگاؤ نہ ہوتا مگر واقعہ اس کے بالکل برخلاف ہے۔چھوٹے دیوتاؤں کی پرستش ہی قدیم قبائل کرتے ہیں اور خدا کی پرستش شاذ و نادر ہی کسی قبیلہ میں پائی جاتی ہے۔پس یہ صورت حالات اس تدریجی ترقی والے مقولہ کو باطل کر دیتی ہے۔پھر ایک اور ذریعہ بھی اس سوال کو حل کرنے کا ہے اور وہ موجودہ زمانے کے تغیرات سے استنباط ہے۔اس عقیدہ کی بنیاد کہ خدا کے خیال نے تدریجی ترقی کی ہے اصل میں صرف اس خیال پر مبنی ہے کہ تمام چیزوں میں تدریجی ترقی یا ارتقاء پایا جاتا ہے اور اس سے انسانی دماغ مستثنیٰ نہیں۔اب ہم اس اصل کو مد نظر رکھتے ہوئے مسلمانوں کی حالت کو دیکھتے ہیں۔دشمن بھی اقرار کرتے ہیں کہ اسلام خالص تو حید پر مبنی تھا۔اس کے ابتداء میں