ہستی باری تعالیٰ — Page 22
ا ۲۲ شرک کا ایک شمہ بھی اس کی تعلیم میں شامل نہ تھا مگر آہستہ آہستہ اب اسلام کی کیا حالت پہنچ گئی ہے۔کیا اب مسلمانوں میں قبر پرست، درخت پرست، جن پرست، بھوت پرست، ستارہ پرست لوگ نہیں پائے جاتے ؟ آخر وہ مسلمان کہلانے والے لوگ ہی ہیں جو کہتے ہیں کہ سید عبد القادر جیلانی کے پاس ایک عورت آئی اور آکر کہا میرے بچے کے لئے دُعا کرو کہ صحت یاب ہو جائے۔انہوں نے کہا دُعا کریں گے اور وہ چلی گئی لیکن وہ پھر آئی اور کہا میرالڑ کا تو مر گیا۔اس پر انہوں نے عزرائیل کو بلایا۔وہ آئے تو کہا میں نے جو کہا تھا اس لڑکے کی جان نہیں نکالنی۔پھر کیوں نکالی؟ انہوں نے کہا مجھے ایسا ہی حکم تھا میں کیا کرتا۔اس پر اسے پکڑنے لگے اور وہ بھا گا۔عزرائیل آگے آگے اور یہ پیچھے پیچھے۔گو یہ بعد میں اُڑے مگر عبد القادر تھے اس کے قریب پہنچ ہی گئے۔وہ آسمان میں داخل ہونے ہی لگا تھا کہ انہوں نے پکڑ کر اس کی زنبیل چھین لی اور اس لڑکے کی روح ہی نہیں بلکہ اس دن کی ساری روحیں جو اس نے قبض کی تھیں چھوڑ دیں۔وہ خدا کے پاس گیا اور جا کر رونے لگا کہ مجھ سے یہ جانیں نکالنے کا کام نہیں ہوسکتا۔خدا تعالیٰ نے وجہ پوچھی تو اس نے بتایا کہ سید عبد القادر نے مجھے ایک روح کے آزاد کرنے کو کہا تھا۔میں نے آزاد نہ کی تو انہوں نے چھین کر سب روحیں ہی آزاد کر دیں۔خدا نے یہ سنتے ہی کہا چپ چپ وہ کہیں یہ باتیں سن نہ لے۔اگر وہ اگلی پچھلی ساری روحیں چھوڑ دے تو پھر ہم کیا کریں گے۔اب بتاؤلا الہ الا اللہ پر جانیں قربان کرنے والوں کی نسل یہ اور اس قسم کی اور باتیں کر رہی ہے یا نہیں؟ اور کیا اس سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان لوگوں میں پہلے شرک پایا جاتا تھا اور پھر خدا کا عقیدہ آیا اور اگر تاریخی طور پر ایک قوم ہمارے سامنے موجود ہے جو خالص